مہاراشٹرا

مغربی ایشیا کی کشیدگی کا اثر, ڈالر کے مقابلے میں روپیہ نچلی سطح پر آہ پہانچا

منگل کے روز بین الاقوامی منڈیوں میں ڈالر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث امریکی کرنسی کو نمایاں مضبوطی حاصل ہوئی۔

بدھ کے روز مغربی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر ڈالر کی مضبوطی کے باعث انٹربینکنگ کرنسی مارکیٹ میں بھارتی روپے پر زبردست دباؤ دیکھا گیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 92 روپے فی ڈالر کی تاریخی نچلی سطح کو عبور کر گیا۔

متعلقہ خبریں
حماس اسرائیل تنازعہ : خام تیل کی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں؟
ممبئی سمیت مہاراشٹر میں پانچویں اور آخری مرحلے کیلئے انتخابی مہم ختم
ہندوستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرادیا
رشبھ پنت ایر لفٹ کے ذریعہ امبانی ہاسپٹل منتقل

گزشتہ کاروباری دن بھارتی کرنسی 91.4925 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی تھی، تاہم بدھ کی صبح یہ 55.75 پیسے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 92.05 روپے فی ڈالر پر کھلی۔ تادمِ تحریر، روپیہ مزید کمزور ہو کر 68 پیسے کی مجموعی گراوٹ کے ساتھ 92.1725 روپے فی ڈالر کی سطح پر کاروبار کرتا دیکھا گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق روپے پر اس دباؤ کی ایک بڑی وجہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد خطے کی صورتحال خاصی خراب ہو گئی ہے۔ اس کے جواب میں ایران کی جانب سے کی گئی کارروائی نے بھی غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اس کشیدہ ماحول میں عالمی سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں ڈالر کا رخ کیا۔ منگل کے روز بین الاقوامی منڈیوں میں ڈالر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث امریکی کرنسی کو نمایاں مضبوطی حاصل ہوئی۔ ڈالر کی اسی مضبوطی کا براہِ راست اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں، بالخصوص بھارتی روپے، پر پڑا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں کشیدگی برقرار رہی اور عالمی سطح پر ڈالر کی طلب میں اضافہ جاری رہا تو آئندہ دنوں میں روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال کا اثر درآمدات، ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے گھریلو معیشت کو اضافی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حکام اور مارکیٹ ماہرین آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات، خام تیل کی قیمتوں اور امریکی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل روپے کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔