مذہب

عید کے بعد صدقۃ الفطر

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’ جس نے نماز عید سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کردیا ، تو صدقہ مقبول ہے، اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا، تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے :

سوال:- زید کہتا ہے کہ عید کا دن گزر نے کے بعد عید کی نماز نہیں پڑھی جا سکتی،اسی طرح صدقۃ الفطر کا مقصد عید میں غریب مسلمانوں کو سہولت پہونچانا ہے ،اس لئے عید کا عید کا دن گزرنے کے بعد اب صدقۃ الفطر واجب نہیں رہا، اور فطرہ ادا نہیں ہوگا۔(شیخ ایاز، شاد نگر)

جواب:- زید کا یہ دعوی غلط ہے ،صدقۃ الفطر مالدار مسلمانوں پر واجب ہے ، اور اس کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا اور رمضان المبارک کو پانے کا شکر ادا کرنا ہے، جب تک اسے ادا نہ کردیا جائے، وہ اس کے ذمہ دَین رہے گا،

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ’’ جس نے نماز عید سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کردیا ، تو صدقہ مقبول ہے، اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا، تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے :

ومن أداھا بعد الصلاۃ فھی صدقۃ من الصدقات (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۱۶۰۹)

اس سے معلوم ہوا کہ عید کے بعد بھی صدقۂ فطر واجب ہی رہتا ہے ، ادا کئے بغیر ساقط نہیں ہو جاتا ، ہاں ! عید سے پہلے صدقہ کرنے میں اجر زیادہ ہے اور عید کے بعد کم ۔