اپنی زمین اور فضا کو ایران کےخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد کی ایرانی صدر کو یقین دہانی
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سامنے آئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ٹیلی فونک رابطے میں سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے والے کسی بھی اقدام کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی پالیسی خطے میں امن اور استحکام کے اصول پر قائم ہے۔
اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ہمیشہ عالمی قوانین کے دائرے میں جنگ روکنے کی کوششوں کا حامی رہا ہے اور اب بھی کشیدگی کم کرنے کے ہر اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کی دھمکیاں اور نفسیاتی دباؤ خطے میں عدم استحکام کے سوا کچھ پیدا نہیں کریں گے اور یہ اقدامات علاقائی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی بحری بیڑا، جس میں یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز اور دیگر جنگی جہاز شامل ہیں، مشرق وسطیٰ پہنچ چکا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے حالات میں کی گئی ہے جب حالیہ دنوں میں ایران کے اندر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
اگرچہ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے مقصد سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے۔