تلنگانہ

بیوی کی موت کا صدمہ، آخری رسومات کے بعد شوہر بھی چل بسا

تفصیلات کے مطابق ضلع کے آتماکورو (ایس) منڈل کے رہنے والے 90 سالہ بی لچھیا اور ان کی 80 سالہ اہلیہ وینکٹ اماں جو گزشتہ 65 برسوں سے ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے شریک سفر رہے، محض چند گھنٹوں کے وقفہ سے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔

حیدرآباد: بیوی کی آخری رسومات کے بعد اس کی موت کاصدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے شوہر بھی چل بسا۔یہ واقعہ تلنگانہ کے سوریاپیٹ ضلع میں پیش آیا۔

متعلقہ خبریں
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد


تفصیلات کے مطابق ضلع کے آتماکورو (ایس) منڈل کے رہنے والے 90 سالہ بی لچھیا اور ان کی 80 سالہ اہلیہ وینکٹ اماں جو گزشتہ 65 برسوں سے ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے شریک سفر رہے، محض چند گھنٹوں کے وقفہ سے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔


تفصیلات کے مطابق، وینکٹ اماں گزشتہ کچھ عرصہ سے ضعیفی کی وجہ سے علیل تھی جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ اپنی بیوی کی موت کی خبر لچھیا کے لئے ناقابلِ برداشت صدمہ ثابت ہوئی۔

ابھی شام کے وقت وینکٹ اماں کی آخری رسومات مکمل ہی ہوئی تھیں کہ اپنی بیوی کی جدائی کے غم میں لچھیا کو دل کا دورہ پڑا اور ان کی بھی موت ہوگئی۔


اس ضعیف جوڑے کی شادی ساڑھے چھ دہائیاں قبل ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی محنت مزدوری سے خاندان کی پرورش کی۔ چند گھنٹوں کے اندر میاں بیوی کی موت سے پورے گاؤں میں غم کا ماحول دیکھاگیا۔

مقامی افرادکا کہنا ہے کہ یہ جوڑا زندگی میں ہی نہیں بلکہ موت میں بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہو سکا۔ ان کی آخری رسومات ایک ہی دن ادا کی گئیں، جو ان کے لازوال رشتے کی ایک یادگار مثال بن گئی۔