تلنگانہ

بیوی کی موت کا صدمہ، آخری رسومات کے بعد شوہر بھی چل بسا

تفصیلات کے مطابق ضلع کے آتماکورو (ایس) منڈل کے رہنے والے 90 سالہ بی لچھیا اور ان کی 80 سالہ اہلیہ وینکٹ اماں جو گزشتہ 65 برسوں سے ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے شریک سفر رہے، محض چند گھنٹوں کے وقفہ سے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔

حیدرآباد: بیوی کی آخری رسومات کے بعد اس کی موت کاصدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے شوہر بھی چل بسا۔یہ واقعہ تلنگانہ کے سوریاپیٹ ضلع میں پیش آیا۔

متعلقہ خبریں
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا


تفصیلات کے مطابق ضلع کے آتماکورو (ایس) منڈل کے رہنے والے 90 سالہ بی لچھیا اور ان کی 80 سالہ اہلیہ وینکٹ اماں جو گزشتہ 65 برسوں سے ہر سکھ دکھ میں ایک دوسرے کے شریک سفر رہے، محض چند گھنٹوں کے وقفہ سے اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔


تفصیلات کے مطابق، وینکٹ اماں گزشتہ کچھ عرصہ سے ضعیفی کی وجہ سے علیل تھی جس کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ اپنی بیوی کی موت کی خبر لچھیا کے لئے ناقابلِ برداشت صدمہ ثابت ہوئی۔

ابھی شام کے وقت وینکٹ اماں کی آخری رسومات مکمل ہی ہوئی تھیں کہ اپنی بیوی کی جدائی کے غم میں لچھیا کو دل کا دورہ پڑا اور ان کی بھی موت ہوگئی۔


اس ضعیف جوڑے کی شادی ساڑھے چھ دہائیاں قبل ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی محنت مزدوری سے خاندان کی پرورش کی۔ چند گھنٹوں کے اندر میاں بیوی کی موت سے پورے گاؤں میں غم کا ماحول دیکھاگیا۔

مقامی افرادکا کہنا ہے کہ یہ جوڑا زندگی میں ہی نہیں بلکہ موت میں بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہو سکا۔ ان کی آخری رسومات ایک ہی دن ادا کی گئیں، جو ان کے لازوال رشتے کی ایک یادگار مثال بن گئی۔