تلنگانہ

تلنگانہ کے 500سرکاری اسکولس میں مصنوعی ذہانت کی خصوصی تربیت

حال ہی میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی موجودگی میں مائیکروسافٹ ایڈوانٹیج انڈیا فاؤنڈیشن کے نمائندوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدہ کے تحت ریاست بھر میں 500 سرکاری اسکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں 50,000 طلبہ کو سافٹ ویئر انجینئرس اور ماہرین کی جانب سے خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کے طلبہ میں بچپن سے ہی ڈیجیٹل مہارت کو فروغ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کی تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج میں مصنوعی ذہانت پر قومی سمینار
سرکاری اسکولس میں چہرہ کی شناخت کانظام متعارف کرانے کا منصوبہ
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

حال ہی میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی موجودگی میں مائیکروسافٹ ایڈوانٹیج انڈیا فاؤنڈیشن کے نمائندوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدہ کے تحت ریاست بھر میں 500 سرکاری اسکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں 50,000 طلبہ کو سافٹ ویئر انجینئرس اور ماہرین کی جانب سے خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔

فی الحال، سرکاری اسکولوں میں چھٹویں سے دسویں جماعت کے طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کی تربیت نارائن پیٹ ضلع کے کولم پلی سرکاری اسکول میں بھی دی جارہی ہے ۔

اسکول کی پرنسپل بھیمیشوری کے مطابق، دوسری سے پانچویں جماعت کے بچے پہلے ہی اپنے والدین کے اسمارٹ فونس پر گیمس کھیلنے اور کامک شوز دیکھنے میں مہارت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے وہ مصنوعی ذہانت کے اسباق کو بھی آسانی سے سمجھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اے آئی کلاسس طلبہ کے لیے کافی مفید ثابت ہو رہی ہیں، اور اس پروگرام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ طلبہ خود ہی اپنی کارکردگی کا تجزیہ کر سکیں۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے ایسے تعلیمی اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ غریب بچوں کے لیے اے آئی تعلیم فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے۔