تلنگانہ کے وزیر اور ان کے ایم پی بیٹے کی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں
تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ شمالی تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر اور ان کے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بیٹے کے کانگریس چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں ان کے کانگریس سے ناراض ہونے اور بی جے پی کے اہم قائدین سے بات چیت کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ شمالی تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر اور ان کے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بیٹے کے کانگریس چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں ان کے کانگریس سے ناراض ہونے اور بی جے پی کے اہم قائدین سے بات چیت کرنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
سیاسی ذرائع کے مطابق، وزیر کی ناراضگی اس وقت بڑھ گئی جب ان کی جانب سے منظوری کے لیے ایک سینئر قائد کو بھیجی گئی اہم فائل مسترد کردی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے بعد وزیر اور ان کے خاندان میں بے اطمینانی پیدا ہوگئی۔ تاہم، فائل مسترد کیے جانے کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب، وزیر کے ایم پی بیٹے کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں کانگریس کے اندر مناسب اہمیت اور شناخت نہ ملنے سے ناراض ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پارٹی میں مسلسل نظرانداز کیے جانے کے احساس نے انہیں متبادل سیاسی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وزیر اور ان کے بیٹے نے بی جے پی کے اہم قائدین سے رابطہ کیا ہے اور پارٹی میں شمولیت کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
اگر یہ قیاس آرائیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو شمالی تلنگانہ میں کانگریس کے سیاسی حالات پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم، وزیر یا ان کے بیٹے کی جانب سے کانگریس چھوڑنے یا بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔