حیدرآباد

پہلی طاق رات کے موقع پر حیدرآباد میں روح پرور مناظر، مساجد میں عبادت گزاروں کا سمندر امڈ آیا

رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں پہلی طاق رات (21 ویں شب) نہایت عقیدت، احترام اور روحانی جوش کے ساتھ منائی گئی۔

حیدرآباد: رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں پہلی طاق رات (21 ویں شب) نہایت عقیدت، احترام اور روحانی جوش کے ساتھ منائی گئی۔ تاریخی مکہ مسجد سمیت شہر کی سینکڑوں مساجد میں رات بھر عبادات، ذکر و اذکار اور خصوصی دعاؤں کے روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
عالمی یومِ خواتین پر خصوصی رپورٹ ساجدہ خان: بھارت کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر اور خواتین کے لیے ایک مثال

رمضان المبارک کے آخری عشرے، جسے ’عشرۂ نجات‘ کہا جاتا ہے، کے آغاز کے ساتھ ہی حیدرآباد کی فضاؤں میں ایک منفرد روحانی کیفیت محسوس کی گئی۔ 21 ویں شب کے موقع پر شہر کی بڑی اور چھوٹی مساجد کو برقی قمقموں سے خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ تاریخی مکہ مسجد، شاہی مسجد باغ عامہ، مسجد چوک اور دیگر مساجد میں نماز عشاء کے بعد ہی عبادت گزاروں کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہوگئی تھی۔

ان اجتماعات کے دوران علمائے کرام نے شب قدر کی عظمت اور رمضان کے آخری عشرے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مکہ مسجد میں ہزاروں افراد نے نمازِ تہجد اور صلوٰۃ التسبیح ادا کی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جب ہزاروں ہاتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت، ملک و ملت کی سلامتی اور عالمی امن کے لیے دعا کے لیے بلند ہوئے۔ شہر کی کئی مساجد میں حفاظِ کرام نے قرآنِ پاک کا دور مکمل کیا جس کے بعد خصوصی اجتماعی دعائیں بھی کی گئیں۔

دوسری جانب رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی پرانے شہر حیدرآباد کے علاقوں، خصوصاً چارمینار، لاڈ بازار اور پتھر گٹی میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بلدیہ کی جانب سے مساجد کے اطراف صفائی کے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے۔

عبادات کے ساتھ ساتھ شہر کے تجارتی مراکز میں بھی غیر معمولی چہل پہل دیکھنے میں آئی۔ عید کی خریداری کے لیے لاڈ بازار، مدینہ بلڈنگ اور عابدس کے بازار رات گئے تک کھلے رہے جہاں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد خریداری میں مصروف نظر آئی۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں اور ریستورانوں نے سحری کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے جہاں حلیم اور دیگر روایتی پکوانوں کے لیے شہریوں کا ہجوم دیکھا گیا۔

مختلف رضاکار تنظیموں کی جانب سے مساجد میں اعتکاف بیٹھنے والے معتکفین اور دیگر عبادت گزاروں کے لیے سحر و افطار کے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے، جس سے رمضان المبارک کی روحانی فضا مزید خوشگوار بن گئی۔