تلنگانہ

محکمہ آبپاشی میں عجیب تقرریاں، موجودہ مشیر کے ماتحت مزید دو مشیر مقرر، حکومتی فیصلے پر سوالات

اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اور تلنگانہ کے مبینہ مخالف آدتیہ ناتھ داس پہلے ہی محکمہ آبپاشی میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب حکومت نے ان کے لیے مزید دو ریٹائرڈ انجینئروں جے ستیانند اور ڈی وشونو کمار شرما کو مشیر مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے محکمہ آبپاشی میں حکومت کی جانب سے کی گئی حالیہ تقرریوں نے محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک موجودہ مشیر کے لیے مزید دو مشیروں کی تقرری پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اور تلنگانہ کے مبینہ مخالف آدتیہ ناتھ داس پہلے ہی محکمہ آبپاشی میں مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اب حکومت نے ان کے لیے مزید دو ریٹائرڈ انجینئروں جے ستیانند اور ڈی وشونو کمار شرما کو مشیر مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

سرکاری احکامات کے مطابق جے ستیانند کو ٹیکنیکل اسسٹنٹ اور ڈی وشونو کمار شرما کو فائننشل کنسلٹنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دونوں کی تقرری 31 مارچ 2027 تک برقرار رہے گی۔

ان تقرریوں پر محکمہ کے بعض سینئر عہدیداروں نے اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ میں پہلے ہی متعدد تجربہ کار سینئر انجینئرز اور عہدیدار موجود ہیں، ایسے میں ریٹائرڈ انجینئروں کو تقریباً 2 لاکھ روپے ماہانہ کی تنخواہ پر مشاورتی عہدوں پر مقرر کرنے کی ضرورت کیا ہے۔

سینئر انجینئرز نے جے ستیانند کی سابقہ خدمات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستیانند ماضی میں جل یگنم اور پرنہیتا-چیوڑلا جیسے اہم آبپاشی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں اور ان کے دور میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔

اعتراض کرنے والے عہدیداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ جن کے خلاف ماضی میں بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے، انہیں دوبارہ محکمہ آبپاشی میں مشاورتی ذمہ داری کیسے دی جاسکتی ہے۔

ان تقرریوں کے بعد محکمہ کے اندر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ ایک موجودہ مشیر کے لیے مزید دو مشیروں کی تقرری کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس سے سرکاری خزانے پر کتنا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

حکومت کے اس فیصلے پر محکمہ کے اندر مزید وضاحت طلب کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ سینئر عہدیداروں کی جانب سے تقرریوں کی ضرورت، ذمہ داریوں اور متعلقہ افراد کے سابقہ ریکارڈ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔