طلبہ کے درمیان ہونے والے معاملے میں BCI کی مداخلت کیوں؟ CJI سوریہ کانت کی برہمی، طلبہ کو پرامن احتجاج کا حق حاصل
چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت نے حیدرآباد کی NALSAR لاء یونیورسٹی کے طلبہ کے معاملے میں بار کونسل آف انڈیا (BCI) کی مبینہ مداخلت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق BCI کی جانب سے طلبہ کے انرولمنٹ کو روکنے سے متعلق احکامات پر چیف جسٹس نے سوالات اٹھائے۔
حیدرآباد: چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت نے حیدرآباد کی NALSAR لاء یونیورسٹی کے طلبہ کے معاملے میں بار کونسل آف انڈیا (BCI) کی مبینہ مداخلت پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق BCI کی جانب سے طلبہ کے انرولمنٹ کو روکنے سے متعلق احکامات پر چیف جسٹس نے سوالات اٹھائے۔
رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت نے BCI کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’طلبہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں آپ کی مداخلت کیا ہے؟‘‘
یہ معاملہ NALSAR کے طلبہ کی جانب سے احتجاج اور مبینہ مہم سے متعلق ہے۔ اس سے قبل BCI نے جسٹس سوریہ کانت کے خلاف طلبہ کی مبینہ مہم کے معاملے میں کارروائی سے متعلق یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایات دی تھیں۔
CJI سوریہ کانت نے مبینہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو اپنی رائے کے اظہار اور پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کررہے ہیں تو انہیں اس کی اجازت دی جانی چاہیے۔
اپنے طالب علمی کے دور کو یاد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وہ خود بھی طالب علم رہتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق طلبہ کو پرامن انداز میں اپنے خیالات اور اختلاف رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس کے ان ریمارکس کے بعد طلبہ کے حقوق، یونیورسٹی کی خودمختاری اور بار کونسل آف انڈیا کے اختیارات کے درمیان توازن سے متعلق بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔
NALSAR کے طلبہ سے متعلق یہ معاملہ قانونی اور تعلیمی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کررہا ہے، بالخصوص آزادی اظہار اور طلبہ کے پرامن جمہوری احتجاج کے حق کے حوالے سے۔
اس پیش رفت کے بعد لاء یونیورسٹیوں کے طلبہ کے خلاف کارروائی اور انرولمنٹ سے متعلق معاملات میں BCI کے اختیارات کی حدود پر مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔