حیدرآباد

حیدرآباد میں گانجہ سپلائی نیٹ ورک کا انکشاف، ایس آئی اور کانسٹیبلس کے مبینہ روابط بھی زیرِ تفتیش

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش کے پڈرو سے تعلق رکھنے والے تین بھائی درگا پرساد، کمالاکر اور کرن بالانگر کے ونائیک نگر شمشان گھاٹ کے قریب واقع ایک مکان سے مبینہ طور پر گانجہ سپلائی کررہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ تینوں 2022 سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔

حیدرآباد: بالانگر میں گانجہ سپلائی کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف ایگل ٹیم پولیس کی کارروائی کے بعد مقامی پولیس اہلکاروں کے ساتھ مبینہ روابط بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس نے تین بھائیوں کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آندھرا پردیش کے پڈرو سے تعلق رکھنے والے تین بھائی درگا پرساد، کمالاکر اور کرن بالانگر کے ونائیک نگر شمشان گھاٹ کے قریب واقع ایک مکان سے مبینہ طور پر گانجہ سپلائی کررہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ تینوں 2022 سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمین آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کی سرحدی علاقوں سے گانجہ حاصل کرتے، اسے چھوٹے پیکٹوں میں تقسیم کرتے اور مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے گاہکوں کو فروخت کرتے تھے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایگل ٹیم کے پولیس اہلکاروں نے بدھ کی رات تقریباً 2 بجے تینوں بھائیوں کو گھر واپس آتے ہوئے دیکھا اور مکان کو گھیر لیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمین نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر کتا چھوڑ دیا اور اسکریو ڈرایور سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں پولیس نے ملزمین کو قابو میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ تحقیقات کے دوران بالانگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ بعض اہلکاروں کے ساتھ مبینہ روابط کی بات بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایگل ٹیم کی کارروائی سے کچھ گھنٹے قبل ملزمین کے گھر پر ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں بالانگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک SI اور کانسٹیبلوں کی مبینہ شرکت کا معاملہ بھی زیرِ تفتیش ہے۔ مذکورہ SI کو کارروائی سے صرف دو دن قبل بالانگر پولیس اسٹیشن سے تبادلہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی الزام ہے کہ ملزمین بعض SI اور کانسٹیبلوں کی نجی پارٹیوں کے لیے شراب اور کیٹرنگ کا انتظام کرتے تھے۔ اس کے عوض مبینہ طور پر انہیں پولیس کارروائی یا چھاپے سے قبل اطلاع دی جاتی تھی، جس سے وہ محتاط ہوجاتے تھے۔

دوسری جانب پولیس نے ملزمین کے موبائل فون کی جانچ کے دوران 203 مبینہ گانجہ خریداروں کی شناخت کی۔ ان میں سے تقریباً 100 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 72 افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاع ہے۔

واقعے کے بعد گانجہ سپلائی کرنے والے مبینہ نیٹ ورک اور پولیس اہلکاروں کے درمیان روابط کے الزامات نے سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ملزمین، مبینہ خریداروں اور پولیس اہلکاروں کے ممکنہ کردار کی مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔