حیدرآباد

حیدرآباد اور تلنگانہ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک اضافہ

مختلف رپورٹوں کے مطابق تلنگانہ میں روزانہ اوسطاً 300 کتے کاٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں سے تقریباً 100 واقعات صرف جی ایچ ایم سی (GHMC) حدود میں درج ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

حیدرآباد: شہر اور ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عوام صحتِ عامہ کے ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہریوں اور جانوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیموں کے درمیان آوارہ کتوں کے مسئلے پر بحث جاری ہے، تاہم اصل خطرہ ان کتوں کے حملوں سے پیدا ہونے والے واقعات ہیں، جن پر محکمۂ صحت کی جانب سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

متعلقہ خبریں
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
آوارہ کتوں کے حملہ میں چار بچے شدید زخمی
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز

مختلف رپورٹوں کے مطابق تلنگانہ میں روزانہ اوسطاً 300 کتے کاٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں سے تقریباً 100 واقعات صرف جی ایچ ایم سی (GHMC) حدود میں درج ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔

پچھلے تین برسوں کے دوران ریاست میں تقریباً 3.4 لاکھ افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام (IDSP) اور نیشنل ریبیز کنٹرول پروگرام (NRCP) کے ریکارڈ میں درج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بیشتر متاثرین پرائیویٹ اسپتالوں میں ریبیز ویکسین اور علاج کے لیے جاتے ہیں، جہاں سے ڈیٹا محکمۂ صحت کو فراہم نہیں کیا جاتا۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر متاثرین بچے ہوتے ہیں، جو جسمانی زخموں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی صدمے کا بھی شکار رہتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق تقریباً 30 سے 40 فیصد بچے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لیکن لاعلمی اور سہولیات کے فقدان کے باعث انہیں مناسب ذہنی صحت کی مدد نہیں ملتی۔