یونیورسٹی آف حیدرآباد کی اراضی کے ہراج کے خلاف طلبہ کا احتجاج
طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ریاستی حکومت کی مدد کرتے ہوئے اراضی کی صفائی میں سہولت فراہم کر کے طلبہ سے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر کیمپس میں تعینات پولیس اور جے سی بی مشینوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حیدرآباد: یونیورسٹی آف حیدرآباد (یو او ایچ) میں جنگل کی اراضی کی صفائی اور ریاستی حکومت کی جانب سے اس کے ہراج کے فیصلہ کے خلاف اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی یونیورسٹی یونٹ نے یونیورسٹی کے اصل باب الداخلہ پر مہا دھرنا کا اعلان کیا ہے، جبکہ طلبہ یونین اور دیگر طلبہ تنظیموں نے ایڈمنسٹریشن بلڈنگ کے سامنے غیر معینہ مدت تک احتجاج شروع کردیا۔
طلبہ کا الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ریاستی حکومت کی مدد کرتے ہوئے اراضی کی صفائی میں سہولت فراہم کر کے طلبہ سے دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر کیمپس میں تعینات پولیس اور جے سی بی مشینوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ یونین کے دیگر مطالبات میں یونیورسٹی کی جانب سے تحریری یقین دہانی شامل ہے کہ وہ اراضی کو یونیورسٹی کے نام پر رجسٹر کرنے کے لیے اقدامات کرے گی اور اس معاملے پر منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی میٹنگ کے منٹس جاری کرے گی۔
طلبہ نے اراضی سے متعلق تمام دستاویزات میں شفافیت کا بھی مطالبہ کیا۔ اے بی وی پی یو او ایچ نے 400 ایکڑ اراضی کے ہراج کا منسوخ کرنے اور اراضی کو سرکاری طور پر یونیورسٹی کے نام بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کے لیے ایک مستقل باونڈری وال کی تعمیر، تمام قانونی دستاویزات، اراضی کے سروے، سرکاری احکامات (جی اوز) اور ٹی جی آئی سی کی مراسلت کو عوام کے سامنے پیش کرنے، اور ایگزیکٹو کونسل کی منظوری کے بغیر یونیورسٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔