جرائم و حادثات

حیدرآباد میں غیر معیاری اور صحت کیلئے خطرناک اچار بنانے والا یونٹ بے نقاب، 72 ڈرم اچار ضبط

پولیس کے مطابق ملزمان انتہائی غیر صحت بخش حالات میں اچار تیار کر رہے تھے اور اس مقصد کے لیے خراب سبزیاں اور ناقص معیار کا خام مال استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ مضر صحت اچار سستے داموں مقامی دکانوں کو فروخت کیا جا رہا تھا، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا تھا۔

حیدرآباد: حیدرآباد پولیس نے شہر میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ضیا گوڑہ علاقے میں ایک غیر قانونی اور غیر معیاری اچار تیار کرنے والے یونٹ کو بے نقاب کر دیا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد میں پیش آیا افسوسناک واقعہ، فیس کی رقم نہ ہونے پر 19 سالہ لڑکی نے کی خودکشی
اسمارٹ فونس چوری کرنے والی ٹولی بے نقاب، 31ملزمین گرفتار
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز

کارروائی کلثوم پورہ پولیس اسٹیشن کی جانب سے کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات اور گشت کے دوران اس یونٹ کا پتہ چلایا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں دو افراد نرسمہا (54) اور نریش (45) کو گرفتار کیا، جو بغیر لائسنس کے بڑے پیمانے پر اچار تیار کر کے فروخت کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان انتہائی غیر صحت بخش حالات میں اچار تیار کر رہے تھے اور اس مقصد کے لیے خراب سبزیاں اور ناقص معیار کا خام مال استعمال کیا جا رہا تھا۔ یہ مضر صحت اچار سستے داموں مقامی دکانوں کو فروخت کیا جا رہا تھا، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا تھا۔

کارروائی کے دوران پولیس نے مختلف اقسام کے اچار کے 72 ڈرم ضبط کیے، جن میں لیموں، لال مرچ، کچی املی، آملہ اور گونگورا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹماٹر اور املی کے پیسٹ کے 6 ڈرم اور ادرک-لہسن کے پیسٹ کا ایک چھوٹا ڈرم بھی برآمد کیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔