حیدرآباد

حیدرآباد کے سروجنی دیوی آئی اسپتال میں کورنیا کی تبدیلی کے کامیاب آپریشنس

جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے اس کے کارنیا میں انفیکشن پایا اور بتایا کہ کورنیا ٹرانسپلانٹ کے ذریعہ بصارت درست ہو سکتی ہے۔ پرائیویٹ اسپتال میں مہنگے علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث سروجنی دیوی اسپتال نے اسے سہارا دیا اور عطیہ دہندہ سے حاصل شدہ کارنیا لگا کر دوبارہ اس کی نظر بحال کر دی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے سروجنی دیوی آئی اسپتال میں ایک معمولی ملازم راجیو کی آنکھ کی روشنی کورنیا کی تبدیلی سے بحال کر دی گئی۔ راجیو کو کچھ دنوں سے آنکھوں میں دھندلا پن اور درد کی شکایت تھی۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے اس کے کارنیا میں انفیکشن پایا اور بتایا کہ کورنیا ٹرانسپلانٹ کے ذریعہ بصارت درست ہو سکتی ہے۔ پرائیویٹ اسپتال میں مہنگے علاج کی استطاعت نہ ہونے کے باعث سروجنی دیوی اسپتال نے اسے سہارا دیا اور عطیہ دہندہ سے حاصل شدہ کارنیا لگا کر دوبارہ اس کی نظر بحال کر دی۔

اسپتال میں ہر سال سو سے زائد غریب مریضوں کی آنکھوں میں کورنیا مفت لگائے جاتے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں لاکھوں روپے خرچ ہونے والا یہ علاج یہاں بالکل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ رواں سال اپریل سے اگست تک تقریباً 50مریضوں کو کورنیا ٹرانسپلانٹ کے ذریعہ نئی زندگی دی گئی ہے جبکہ مزید 50مریض انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔

حال ہی میں اسپتال نے آر ٹی سی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ دیہی علاقوں میں جمع ہونے والے کورنیا کو محفوظ ڈبوں میں رکھ کر بسوں کے ذریعہ حیدرآباد منتقل کیا جا سکے۔ ابتدا میں سدّی پیٹ، ورنگل، عادل آباد اور نظام آباد کے میڈیکل عملہ کو اس سلسلہ میں خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق کورنیا ٹرانسپلانٹ کو کیراتوپلاسٹی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل ان مریضوں کے لئے ضروری ہوتا ہے جن کا کورنیا حادثات، بیماریوں، زخموں، دھبوں یا انفیکشن کی وجہ سے متاثر ہو جائے اور بصارت کم ہو جائے۔ کورنیا کے اندرونی حصہ کی خرابی، سوجن، السر یا کیمیکل سے ہونے والے زخم کی صورت میں بھی یہ سرجری ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اسپتال ڈاکٹر مودی نے بتایاکہ ہم ہر اس مریض کو کورنیا لگا رہے ہیں جسے ضرورت ہے۔ اگر موت کے چھ گھنٹے کے اندر اطلاع مل جائے تو ہمارے ڈاکٹر عطیہ دہندہ کا کورنیا محفوظ کر لیتے ہیں۔

آر ٹی سی سے ہوئے نئے معاہدہ کے باعث دور دراز علاقوں سے کورنیا بروقت شہر لایا جا سکے گا۔ ان کارنیاؤں کو 15دن کے اندر مریضوں میں لگا دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ رضاکارانہ طور پر کارنیا عطیہ کریں۔