آندھراپردیش

جنسی طور پر ہراساں کی گئی طالبہ کی خودکشی کا معاملہ، آندھراپردیش حکومت کو نوٹس

کمیشن نے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کونوٹس میں چار ہفتے کے اندر اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں تحقیقات کا اسٹیٹس بھی شامل ہونا چاہیے۔

نئی دہلی: قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے وشاکھاپٹنم میں کالج کے ایک فیکلٹی ممبر کے ذریعہ طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اس کے بعد طالبہ کی خود کشی پر منگل کو آندھرا پردیش حکومت اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔

متعلقہ خبریں
لڈو پرسادم تنازعہ: حکومت اے پی کی جانب سے 9رکنی ایس آئی ٹی کی تشکیل
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
آسام میں ٹیچر کے لڑکیوں کو فحش ویڈیودکھانے پر اسکول کو جلادیا گیا
توہین آمیز ریمارکس پر کے سی آر کو نوٹس
عام آدمی پارٹی قائد آتشی کو الیکشن کمیشن کی نوٹس

کمیشن نے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کونوٹس میں چار ہفتے کے اندر اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں تحقیقات کا اسٹیٹس بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ افسران کو کالج میں جنسی ہراسانی کے دیگر مبینہ معاملات کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

کمیشن نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے کہ 28 مارچ کو ریاست کے وشاکھاپٹنم ضلع کے کومادی علاقے میں واقع چیتنیا انجینئرنگ کالج کی ڈپلومہ فرسٹ ایئر کی طالبہ نے ایک فیکلٹی ممبر کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے تنگ آکرچوتھی منزل سے کود کر خودکشی کرلی۔

کمیشن نے چیف سکریٹری اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے اس معاملے کے حوالے سے پوچھا کہ اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔