تلنگانہ

تلنگانہ کے مستقل ڈی جی پی کے تقرر کا عمل چار ہفتوں کے اندر مکمل کرنے سپریم کورٹ کی ہدایت

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کی زیرقیادت بنچ نے اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ گزشتہ سال اپریل میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے ڈی جی پی کے عہدہ کے لئے بھیجی گئی تجاویز پر غور کیا جائے اور ایک ماہ کے اندر مستقل تقرر کا عمل مکمل کیا جائے۔

حیدرآباد: سپریم کورٹ نے یونین پبلک سروس کمیشن اور تلنگانہ حکومت کوہدایت دی ہے کہ مستقل ڈی جی پی کے تقرر کا عمل چار ہفتوں کے اندر مکمل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
اقلیتی طلبہ کے لیے UPSC امتحان کی مفت کوچنگ، درخواستوں کا آغاز
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔


چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کی زیرقیادت بنچ نے اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ گزشتہ سال اپریل میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے ڈی جی پی کے عہدہ کے لئے بھیجی گئی تجاویز پر غور کیا جائے اور ایک ماہ کے اندر مستقل تقرر کا عمل مکمل کیا جائے۔


سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس کئے کہ ہائی کورٹ کے سنگل جج کے فیصلہ میں کوئی غلطی نہیں ہے تاہم عام طور پر ہم امید کرتے ہیں کہ ایسے اہم معاملات کی سماعت سینئر جج کریں۔


واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے 26 ستمبر کو بی شیودھر ریڈی کو ڈی جی پی کا مکمل اضافی چارج دینے کے احکامات جاری کئے تھے۔ اس فیصلہ کو حیدرآباد کے ٹی دھن گوپال راؤ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے پرکاش سنگھ بنام یونین آف انڈیا کیس کے رہنما خطوط کے مطابق ڈی جی پی کا تقرر عارضی بنیادوں پر نہیں کیا جا سکتا۔


اگرچہ ہائی کورٹ نے شیودھر ریڈی کے تقرر کے سرکاری حکم نامہ کو کالعدم قرار دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن حکومت کو مستقل انتخاب کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت عدالت نے دی تھی۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے عمل کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔