حیدرآباد

سپریم کورٹ کا حکم‘ حائیڈرا پراطلاق نہیں ہوتا: رنگناتھ

یہ حکم ان خدشات کی وجہ سے سامنے آیا ہے کہ انہدام کو جرائم کا الزام عائد کرنے والے افراد کے خلاف تعزیری اقدامات کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہم،حیدرآباد میں حائیڈراکی کارروائیاں صرف غیر قانونی عمارتوں سے نمٹنے پر مرکوز ہیں۔

حیدرآباد: حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ ایسٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی (حائیڈرا) کے کمشنر اے وی رنگناتھ نے کہا کہ دہلی کے جہانگیر پوری میں انہدامی مہم کے بارے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ حائیڈرا کی کارروائیوں پر اطلاق نہیں ہوتا ہے۔  حائیڈرا صرف جھیلوں، نالوں یا سرکاری اراضیات پر تجاوزات کو مسمار کرتا ہے‘ہم کسی مجرم یا ملزمین کی جائیدادوں کا انہدام نہیں کرتے۔

متعلقہ خبریں
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطالعہ کیلئے کمیٹی تشکیل
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ

رنگناتھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم انہدامی مہم کے خلاف متعدد درخواستوں کے جواب میں جاری کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی انہدام نہیں ہونا چاہیے حالانکہ اس نے واضح کیا کہ اس کا اطلاق سڑکوں، فٹ پاتھوں یا آبی ذخائر جیسے عوامی مقامات پر غیر مجاز عمارتوں پر نہیں ہوتا۔

 یہ حکم ان خدشات کی وجہ سے سامنے آیا ہے کہ انہدام کو جرائم کا الزام عائد کرنے والے افراد کے خلاف تعزیری اقدامات کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہم،حیدرآباد میں حائیڈراکی کارروائیاں صرف غیر قانونی عمارتوں سے نمٹنے پر مرکوز ہیں۔