آندھراپردیشتلنگانہ

تلنگانہ اور اے پی کا مشترکہ دارالحکومت 2 جون کے بعد ختم ہوجائے گا

دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اورآندھراپردیش کا مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد 2 جون کے بعد ختم ہوجائے گا۔

حیدرآباد: دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اورآندھراپردیش کا مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد 2 جون کے بعد ختم ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
جماعت اسلامی ہند کا "احترام انسانیت” مہم کا اختتامی جلسہ حیدرآباد میں
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ

دس سال پہلے اُس وقت کی مرکز کی یوپی اے حکومت نے متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے ذریعہ تلنگانہ کی تشکیل کے موقع پر حیدرآباد کو دس سال کے لئے دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت بنایا تھا۔

جاریہ سال 2جون کو دس سال مکمل ہورہے ہیں۔ حیدرآباد میں اے پی کے تمام سرکاری دفاتر کو اے پی منتقل کیا جارہا ہے۔

2016 میں، 90% دفاتر تلنگانہ سے اے پی منتقل کردیئے گئے تھے۔ آندھرا پردیش الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کا ہیڈ آفس حیدرآباد سے کرنول منتقل کردیاگیا۔

اس دفتر کو کرنول منتقل کرنے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا جب تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد میں اے پی حکومت کی طرف سے لی گئی تمام عمارتوں کو 2 جون سے پہلے خالی کرنے کی نوٹس جاری کی۔

اس طرح اب حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہے گا۔آندھراپردیش کے وزیراعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اے پی ای آر سی کے دفتر کو کرنول منتقل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے گزشتہ سال جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کو تمام عمارتیں تلنگانہ حکومت کے حوالے کرنے اور دفاتر کو اے پی میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔