تلنگانہ بی جے پی نے بھاگوت کو لو جہاد کے معاملہ پر دیئے گئے بیرسٹراویسی کے چیلنج کو غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب قرار دیا
تلنگانہ بی جے پی نے بیرسٹراسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآبادوصدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو لو جہاد کے معاملہ پر دیئے گئے چیلنج کو غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی نے بیرسٹراسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآبادوصدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو لو جہاد کے معاملہ پر دیئے گئے چیلنج کو غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔
ریاستی بی جے پی کے ترجمان این وی سبھاش نے ایک بیان میں کہا کہ اویسی کا اس حساس مسئلہ کو محض انفرادی پسند قرار دینا ذہنی بددیانتی اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے کیونکہ نظریاتی اور جبری جہاد کی حقیقت دستاویزی طور پر ثابت شدہ ہے۔
انہوں نے لو جہاد کے اعداد و شمار سے متعلق بیرسٹر اویسی کے مطالبہ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ مرکزی سطح پر اس نام کا کوئی مخصوص ڈیٹا سیٹ موجود نہیں ہے لیکن اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات جیسی کئی ریاستوں نے غیر قانونی تبدیلیِ مذہب کے قوانین کے تحت ایسے کئی معاملات درج کئے ہیں۔
سبھاش نے بیرسٹر اویسی پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا کہ وہ ان منظم کوششوں پر خاموش کیوں رہتے ہیں جن میں جھوٹی شناخت کے ذریعہ دوسرے طبقات کی لڑکیوں کو تبدیلیِ مذہب پر مجبور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دی کیرالہ اسٹوری جیسی فلموں اور تحقیقاتی رپورٹس نے اویسی جیسے لیڈروں کو بے نقاب کر دیا ہے، اسی لئے وہ اب حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے اعداد و شمار کا سہارا لے کر انکار کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔