حیدرآباد

تلنگانہ بجٹ پری پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک طلبہ کے لیے ناشتے کی اسکیم کا اعلان

س اسکیم کے تحت طلبہ کو ہفتے میں تین دن دودھ اور باقی تین دن راگی مالٹ فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے طلبہ کی صحت بہتر ہوگی، حاضری میں اضافہ ہوگا اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی آئے گی۔

تلنگانہ بجٹ  : تفصیلی رپورٹ  بجٹ 2026-27 میں ایک اہم عوامی فلاحی فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے طلبہ کے لیے ناشتے کی اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو تعلیمی سال 2026-27 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ہائر سیکنڈری طلبہ کے لیے مڈ ڈے میل اسکیم کو بھی توسیع دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ کے قرض میں مزید اضافہ، مقروض ریاستوں کی فہرست میں نمایاں مقام
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع

یہ اعلان ریاستی اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ  نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب سرکاری جونیئر کالجوں میں زیر تعلیم ہائر سیکنڈری طلبہ کو بھی مڈ ڈے میل فراہم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کی قیادت میں حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پری پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک تمام طلبہ کے لیے ریاست بھر میں ناشتے کی اسکیم شروع کی جائے گی تاکہ انہیں معیاری غذائیت فراہم کی جا سکے۔

اس اسکیم کے تحت طلبہ کو ہفتے میں تین دن دودھ اور باقی تین دن راگی مالٹ فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے طلبہ کی صحت بہتر ہوگی، حاضری میں اضافہ ہوگا اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی آئے گی۔

مزید برآں، حکومت نے ہائر سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے والے معذور طلبہ کو موٹرائزڈ گاڑیاں فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز (سابقہ آئی ٹی آئی) میں تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کو ماہانہ 2,000 روپے وظیفہ دیا جائے گا۔

بجٹ میں “اندیرامّا فیملی لائف انشورنس اسکیم” کے نفاذ کا بھی اعلان کیا گیا، جس کے تحت ریاست کے تقریباً 1 کروڑ 15 لاکھ خاندانوں کو 5 لاکھ روپے تک کا لائف انشورنس فراہم کیا جائے گا۔

اسی طرح سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے کیش لیس ہیلتھ اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت 1,998 بیماریوں کا علاج سرکاری اور منتخب نجی اسپتالوں میں ممکن ہوگا۔ اس اسکیم سے تقریباً 23.51 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔

مزید یہ کہ پہلی بار ایک جامع حادثاتی بیمہ اسکیم بھی شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو حادثاتی موت کی صورت میں 1.20 کروڑ روپے تک کا کور فراہم کیا جائے گا، جبکہ فضائی حادثے کی صورت میں اضافی 2 کروڑ روپے کی سہولت بھی دی جائے گی۔ماہرین کے مطابق یہ بجٹ ریاست میں تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے