ساوتری بائی پھولے کے 195 ویں یوم پیدائش پرصدرتلنگانہ کانگریس مہیش کمار گوڑکا خراج
اپنے ایک بیان میں مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ہندوستان کی سماجی تاریخ میں ساوتری بائی پھولے کی انقلابی جدوجہد کو یاد رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، سماجی مساوات اور انسانی وقار کے لئے جو تحریک چلائی، وہ آج بھی آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے ساوتری بائی پھولے کے 195 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں بھرپورخراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم بصیرت افروز شخصیت تھیں جنہوں نے تعلیم کے ذریعہ خواتین کی آزادی کی شمع روشن کی۔
اپنے ایک بیان میں مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ہندوستان کی سماجی تاریخ میں ساوتری بائی پھولے کی انقلابی جدوجہد کو یاد رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، سماجی مساوات اور انسانی وقار کے لئے جو تحریک چلائی، وہ آج بھی آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
ٹی پی سی سی صدر نے کہا کہ 195 سال قبل انہوں نے تعلیم ہی نجات کا راستہ ہے کا جو پیغام دیا تھا، وہ آج بھی معاشرہ کو منور کر رہا ہے۔ وہ ایک عظیم مصلح تھیں جنہوں نے خواتین کے ہاتھوں میں کتابیں تھمائیں اور تعلیم کو ان کا سب سے مضبوط ہتھیار بنا کر انہیں بااختیار بنایا۔
اس دور میں جب خواتین کی تعلیم کے خلاف تعصب، امتیازی سلوک اور جبر عروج پر تھا، انہوں نے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا اور ان کی یہ جدوجہد تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ساوتری بائی پھولے نے اپنے شوہر جیوتی راؤ پھولے کے ساتھ مل کر ملک کا پہلا لڑکیوں کا اسکول قائم کیا اور ہندوستان میں خواتین کی تعلیم کی بنیاد رکھی۔ وہ پہلی شاعرہ تھیں جنہوں نے سماجی ناہمواریوں کے خلاف قلم کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
انسانیت کی علامت کے طور پر انہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، مساوات اور سماجی انصاف کے لئے وقف کر دی۔ ان کے نظریات اور افکار آج کی نسل کے لئے بھی تحریک کا باعث ہیں ۔