حیدرآباد
ٹرینڈنگ

تلنگانہ: نئے راشن کارڈس کی اجرائی، ریونت ریڈی کابینہ کا اجلاس، 6 اہم ترین فیصلے

چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں دیگر اہم فیصلے بھی لئے گئے۔ کابینہ نے گوراویلی پروجیکٹ کے لیے 437 کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ جاب کیلنڈر کی بھی منظوری دی گئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کابینہ نے آج مزید اہم فیصلے لئے ہیں۔ اس اجلاس میں نئے راشن کارڈس کی اجرائی اور دھرنی پورٹل کے معاملے پر ایسے فیصلے لئے گئے ہیں جن کا ریاست کے عوام کو بے چینی سے انتظار تھا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
پرگتی بھون میں عثمان الھاجری کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ سے ملاقات
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع

ریونت ریڈی کابینہ نے دھرنی پورٹل کا نام تبدیل کر کے اسے بھوماتا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے تلنگانہ ریاست میں نئے راشن کارڈس جاری کرنے کے فیصلہ کو بھی ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔

کابینہ نے اس سلسلہ میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کا اجلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں دیگر اہم فیصلے بھی لئے گئے۔ کابینہ نے گوراویلی پروجیکٹ کے لیے 437 کروڑ روپے مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ جاب کیلنڈر کی بھی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ کرکٹر سراج اور نکہت زرین کو گروپ ون کی نوکریاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ریونت ریڈی کابینہ نے راشن کارڈ اور آروگیہ شری کارڈس علیحدہ علیحدہ جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی دیہاتوں کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرنے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی تشکیل کو بھی منظوری دے دی ہے۔

وزیر سیتا اکا، سریدھر بابو اور پونم پربھاکر کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ اسی دوران کابینہ نے وایناڈ میں ہونے والی اموات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

کابینہ نے نئے راشن کارڈس کی اجرائی کے طریقہ کار کو وضع کرنے کے لئے ریاستی وزیر سیول سپلائز اتم کمار ریڈی کی صدارت میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی بل کو بھی منظوری دے دی ہے۔