تلنگانہ

تلنگانہ جاگروتی مکمل سیاسی جماعت نہیں،بلدی انتخابات میں براہ راست حصہ نہیں لے گی،حمایت پرغور:کویتا

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کویتا نے تلنگانہ میں جلد ہونے والے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم تلنگانہ جاگروتی ابھی تک ایک مکمل سیاسی جماعت میں تبدیل نہیں ہوئی ہے اسی لئے ان کی تنظیم ان انتخابات میں براہ راست حصہ نہیں لے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کی صدر کویتا نے تلنگانہ میں جلد ہونے والے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں واضح کیا ہے کہ ان کی تنظیم تلنگانہ جاگروتی ابھی تک ایک مکمل سیاسی جماعت میں تبدیل نہیں ہوئی ہے اسی لئے ان کی تنظیم ان انتخابات میں براہ راست حصہ نہیں لے گی۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
کے کویتا نے امریکہ میں بیٹے کی گریجویشن تقریب میں شرکت، ماں ہونے پر فخر کا اظہار
مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن میں حصہ نہ لینے بی آر ایس کا فیصلہ
جامع سروے، غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ


تلنگانہ تحریک کے مجاہد ایم ستیہ نارائن کے یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ خود الیکشن نہیں لڑ رہی ہیں لیکن اگر کوئی ان سے تعاون یا حمایت مانگے گا تو وہ اس پر ضرور غور کریں گے۔


اس موقع پر کویتا جو تلنگانہ کے سابق وزیراعلی و بی آرایس سربراہ کے چندرشیکھرراو کی دختر ہیں نے فون ٹیپنگ کیس کے سلسلہ میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ یہ کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ متاثرین کو اس معاملہ میں انصاف ملے گا۔ تلنگانہ کی شناخت اور ثقافت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد کے ٹینک بنڈ پر تلنگانہ تحریک کے عظیم لیڈروں کے مجسمے نصب کئے جانے چاہئیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تحریکِ تلنگانہ میں اہم کردار ادا کرنے والے ستیہ نارائنا کا مجسمہ بھی ٹینک بنڈ پر لگایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کی قربانیوں سے واقف ہو سکیں۔

واضح رہے کہ بی آرایس پارٹی کے اہم قائدین ہریش راو اورسنتوش کمار پر تنقید پر کویتا کے والد و پارٹی کے سربراہ کے چندرشیکھرراو نے ان کو پارٹی سے معطل کردیا جس کے بعد کویتا نے ایم ایل سی کے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے اوروہ اپنی نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کامنصوبہ رکھتی ہیں۔