تلنگانہ

تلنگانہ: دسویں جماعت کا پیپرلیک ہونے کا معاملہ پر طالبہ کی ہائی کورٹ میں درخواست

تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع کے نکریکل میں پیش آئے دسویں جماعت کے پرچہ لیک ہونے کے معاملہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا۔ دسویں جماعت کی طالبہ جھانسی لکشمی نے اس معاملہ پر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے نلگنڈہ ضلع کے نکریکل میں پیش آئے دسویں جماعت کے پرچہ لیک ہونے کے معاملہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیا۔ دسویں جماعت کی طالبہ جھانسی لکشمی نے اس معاملہ پر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

متعلقہ خبریں
این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

درخواست گزار جھانسی لکشمی نے شکایت کی کہ پرچہ افشاء کے واقعہ میں اسے ذمہ دار ٹھہرا کر محکمہ تعلیمات کے حکام نے اسے ڈی بار کر دیا ہے۔

اس نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس کا ڈی بار ختم کیا جائے اور اسے امتحانات لکھنے کی اجازت دی جائے۔

جھانسی لکشمی نے اپنی درخواست میں محکمہ تعلیمات کے سکریٹری، بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کے سکریٹری، نلگنڈہ کے ڈی ای او، ایم ای او اور نکریکل امتحانی مرکز کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے۔

ہائی کورٹ نے تمام مدعا علیہان کو 7 اپریل تک اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

جھانسی لکشمی نے درخواست میں کہا ہے کہ حکام اور بعض افرادکی غلطیوں کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑ رہا ہے اور وہ بے قصور ہونے کے باوجود بلی کا بکرا بنائی جا رہی ہے۔