حیدرآباد

عثمانیہ یونیورسٹی میں طالبات کے احتجاج سے کشیدگی

ان طالبات نے بتایا کہ ضلع منچریال سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی ماں اپنی بیٹی سے ملنے پہنچیں لیکن ہاسٹل عملے نے رات کے وقت انہیں اندر ٹھہرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا اور ڈائریکٹر سے تحریری اجازت نامہ لانے کی شرط رکھ دی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کی مشہور عثمانیہ یونیورسٹی میں کل شب طالبات کے احتجاج سے کشیدگی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر


ان طالبات نے انتظامیہ کے رویہ اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف آرٹس کالج کے سامنے مرکزی سڑک پر دھرنا دے دیا۔


ان طالبات نے بتایا کہ ضلع منچریال سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی ماں اپنی بیٹی سے ملنے پہنچیں لیکن ہاسٹل عملے نے رات کے وقت انہیں اندر ٹھہرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا اور ڈائریکٹر سے تحریری اجازت نامہ لانے کی شرط رکھ دی۔


طالبات کا الزام ہے کہ ضعیف ماں کو کئی گھنٹوں تک ہاسٹل کے باہر مچھروں میں بیٹھنے پر مجبور کیا گیا اور یونیورسٹی حکام کو بارہا فون کرنے کے باوجود کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔

مظاہرین نے مزید شکایت کی کہ ہاسٹل میں صرف رہائش کا مسئلہ نہیں بلکہ کھانے پینے کی اشیاء میں کیڑے نکلنا، پینے کے پانی اور بجلی کی عدم دستیابی، اور ٹوٹے ہوئے فرنیچر جیسے مسائل بھی روز کا معمول بن چکے ہیں۔

طالبات نے مطالبہ کیا کہ ہاسٹل انتظامیہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائے اور ان کے والدین کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھہرنے کا انتظام کیا جائے، ساتھ ہی میس اور ہاسٹل کے دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کو فوری طور پر درست کیا جائے۔