دہلی

اقلیتی اسکالرشپ گھوٹالہ کا پردہ فاش، کئی ادارے جعلی، سی بی آئی تحقیقات کا حکم

مودی حکومت نے ملک میں اقلیتی برادریوں کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ملنے والی اسکالر شپ میں اضافہ کیا تھا تاکہ طلباء کو پڑھائی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن ملک میں اقلیتی اسکالرشپ اسکام بے نقاب ہوا ہے۔

حیدرآباد: مودی حکومت نے ملک میں اقلیتی برادریوں کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ملنے والی اسکالر شپ میں اضافہ کیا تھا تاکہ طلباء کو پڑھائی میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن ملک میں اقلیتی اسکالرشپ اسکام بے نقاب ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں
سندیش کھالی میں کیمپ آفس قائم کرنے سی بی آئی کا فیصلہ
جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس فراہمی میں ملوث ملزم اور5 خریدارگرفتار
تلنگانہ کے چند میڈیکل کالجوں پر ای ڈی کے بیک وقت دھاؤے
ہندوستانی شہریوں کو یوکرین جنگ میں دھکیلنے کا ریاکٹ، 4 گرفتار
اللہ، قطعی فیصلہ کرے گا: شیخ شاہجہاں

اس اسکام میں کئی ریاستوں کے فرضی ناموں پر فرضی فائدہ اٹھانے والے، فرضی ادارے اور بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد مرکزی وزیر اقلیتی بہبود اسمرتی ایرانی نے اس کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اقلیتی اداروں، ریاستی انتظامیہ اور بینکوں نے مل کر بدعنوانی کی ہے۔

جانچ میں پتہ چلا کہ 1572 اقلیتی اداروں کی جانچ میں 830 مدارس فرضی یا غیر فعال پائے گئے، جن میں 144 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ دراصل اقلیتوں کی وزارت نے 10 جولائی کو سی بی آئی کے پاس اپنی شکایت درج کرائی تھی۔

بتایا گیا کہ وزارت نے مختلف ریاستوں کے 100 اضلاع میں داخلی انکوائری کی تھی۔ ان میں سے 21 ریاستوں کے 1572 اداروں میں سے 830 ادارے جعلی پائے گئے ہیں جن میں تقریباً 53 فیصد طلبہ جعلی پائے گئے۔ پچھلے 5 سالوں میں صرف 830 اداروں میں 144.83 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔

تاہم دیگر اداروں کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ اب تک کی جانچ پڑتال کے معاملات میں اسکالرشپ کے حقیقی استفادہ کنندگان کو ہونے والے بڑے پیمانے پر نقصان اور بوگس استفادہ کنندگان کے ذریعہ سرکاری خزانے کو 144 کروڑ روپے کے نقصان کی تحقیقات کے لئے یہ سی بی آئی کو سونپا گیا ہے۔

اگر ذرائع پر یقین کیا جائے تو یہ کئی سطحوں پر ادارہ جاتی کرپشن ہے۔ ادارے یا تو غیر موجود ہیں یا غیر فعال ہیں مگر نیشنل اسکالرشپ پورٹل اور یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن دونوں پر رجسٹرڈ ہیں۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سب سے زیادہ فرضی مدارس راجستھان میں ہیں۔

راجستھان میں 128 اداروں کی چھان بین کی گئی۔ 99 جعلی/غیرکارکرد نکلے جبکہ چھتیس گڑھ میں 62 ادارے جعلی/غیرکارکرد، آسام میں 68 فیصد جعلی، کرناٹک میں 64 فیصد، یوپی 44 فیصد جعلی، بنگال میں 39 فیصد مدارس جعلی یا غیر فعال پائے گئے۔

سی بی آئی اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ کس طرح اداروں کے نوڈل آفیسرس نے ٹھیک رپورٹس دیں؟ کس طرح ضلع نوڈل آفیسرس نے فرضی معاملات کی تصدیق کی اور کتنی ریاستوں نے اس گھوٹالے کو سالوں تک جاری رہنے دیا وغیرہ وغیرہ۔ اقلیتی امور کی وزارت کے ایک ذریعہ نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ کس طرح بینکوں نے فائدہ اٹھانے والوں کے لئے جعلی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی۔