عمان میں فوت تلنگانہ کے نظام آباد کے مزدور کی لاش سرکاری خرچ پر وطن واپس لائی جائے گی
گولا ابولو چار ماہ قبل روزگار کے لئے عمان کے شہر صلالہ گیاتھا۔ کمپنی کی پالیسیوں سے اختلاف کے بعد اس نے کام چھوڑ دیا تھا جس کے باعث وہاں کے قانون کے مطابق اسے غیر قانونی مقیم قرار دے دیا گیا۔ 14 دسمبر کو اس کی موت ہوگئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ریاست سے باہر کام کرنے والے تارکین وطن کے تئیں اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک غریب خاندان کی فریاد پر فوری اقدام کیا۔
ضلع نظام آباد کے منڈل نوی پیٹ سے تعلق رکھنے والے 40سالہ گولا ابولو جس کی عمان میں موت ہوگئی تھی کی لاش کی وطن واپسی کے لئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 1.50 لاکھ روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔
گولا ابولو چار ماہ قبل روزگار کے لئے عمان کے شہر صلالہ گیاتھا۔ کمپنی کی پالیسیوں سے اختلاف کے بعد اس نے کام چھوڑ دیا تھا جس کے باعث وہاں کے قانون کے مطابق اسے غیر قانونی مقیم قرار دے دیا گیا۔ 14 دسمبر کو اس کی موت ہوگئی۔
کمپنی نے لاش کی واپسی کا خرچ اٹھانے سے انکار کر دیا جبکہ مسقط میں موجود ہندوستانی سفارت خانہ نے بھی فنڈس کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے خاندان سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر عمان میں ہی آخری رسومات کی بات کہی۔
اس شخص کی بیٹی چنا ساوتری نے 13 جنوری کو حیدرآباد میں پرواسی پرجا وانی میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے نام درخواست پیش کی۔ اس معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین ڈاکٹر جی چنا ریڈی نے فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
آئی اے ایس آفیسر دیویا دیوراجن نے صورتحال پر محض چند گھنٹوں کے اندر چیف منسٹرریلیف فنڈ سے رقم منظور کروائی۔
آنجہانی کے پاس 10 لاکھ روپے کی پرواسی بھارتیہ بیمہ یوجنا پالیسی ہونے کے باوجود مرکزی وزارت خارجہ اور سفارت خانہ کی مبینہ غفلت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
متاثرہ خاندان نے بودھن کے ایم ایل اے و سرکاری مشیر پی سدرشن ریڈی اور این آر آئی ایڈوائزری کمیٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ عمان میں انڈین سوشل کلب کے تلنگانہ ونگ کے صدر جی گنیش اس عمل میں تعاون کر رہے ہیں۔