ساورکر کو بیف خور قراردینے کا دعویٰ مسترد
نقوی نے کہا کہ جو لوگ اس انداز میں بات کرتے ہیں وہ جہالت سے پر ہیں اور ملک کی تاریخ‘ اقدار‘ ثقافت اور عظیم شخصیتوں کے بارے میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں ملک اسے قبول نہیں کرے گا۔

نئی دہلی: سینئر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے ونائک ساورکر کو ”بیف کھانے والا شخص“ قراردینے پر آج کرناٹک کے وزیر صحت دنیش گنڈوراؤ کو نشانہ ئ تنقید بنایا اور کہا کہ ان کے بے بنیاد دعوے ملک کی مالامال تاریخ سے ان کی ناواقفیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نقوی نے آئی اے این ایس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ معلومات کا حامل بتانے کی کوشش میں قومی ہیروز کو بدنام اور داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بے بنیاد دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک کی مالامال تاریخ سے ناواقف ہیں اور یہ دعوے ان کی ذہنی حالت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
نقوی نے کہا کہ جو لوگ اس انداز میں بات کرتے ہیں وہ جہالت سے پر ہیں اور ملک کی تاریخ‘ اقدار‘ ثقافت اور عظیم شخصیتوں کے بارے میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں ملک اسے قبول نہیں کرے گا۔ وزیر صحت راؤ نے چہارشنبہ کے روز ایک کتاب کی رسم اجراء تقریب کے دوران یہ تبصرہ کیا تھا۔
انہوں نے کتاب ”گاندھی کا قاتل: ناتھورام گوڈسے اور ہندوستان کے بارے میں اس کا نظریہ“ کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ساورکر کے نظریات مباحث میں پائے جاتے ہیں تو یہ گمراہ کن ہوگا۔ وہ گوشت خور تھے اور ذبیحہ گاؤ کے مخالف نہیں تھے۔ وہ چت پون برہمن تھے۔
ساورکر جدید خیالات کے حامل شخص تھے لیکن ان کی بنیادی سوچ مختلف تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ بیف کھایا کرتے تھے اور بیف کھانے کی کھلے عام ترغیب بھی دیا کرتے تھے لہٰذا ان کی سوچ مختلف تھی تاہم گاندھی جی کو ہندوازم پر بہت بھروسہ تھا اور وہ قدامت پسند تھے لیکن ان کے اقدامات مختلف تھے کیونکہ وہ ایک لحاظ سے جمہوری بھی تھے۔
نقوی نے مزید کہا کہ ان قائدین کی ذہنی صحت کی جانچ پڑتال فوری طورپر کی جانی چاہئے جو اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ ملک کے عوام کو ایسے قائدین کا ذہنی توازن درست کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو دانشور ظاہر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو کسی اچھے مینٹل ہاسپٹل میں معائنہ کرانے کی بھی ضرورت ہے۔