دہلی

کرتویہ پتھ پر ’آپریشن سندھور‘ کو اجاگر کرنے کے لیے سہ رخی جھانکی

آپریشن سندور نے آتم نربھر بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور وکست بھارت 2047 کی جانب قوم کی غیر متزلزل پیش رفت کی عکاسی کی ہے۔

نئی دہلی : یوم جمہوریہ کے موقع پر تینوں مسلح افواج کی جھانکی میں ’آپریشن سندور‘ کی صلاحیت کی جھلک دکھائی دے گی۔

متعلقہ خبریں
اویسی کا دوٹوک بیان: پاکستان دہشت گردی کی آڑ میں انسانیت کا دشمن
یوم ِ جمہوریہ برابر حقوق دینے اور تمام لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا سبق دیتا ہے
یوم جمہوریہ اور دہلی اسمبلی الیکشن کے لئے سخت سیکوریٹی
کپواڑہ میں 2 دہشت گرد ہلاک
ہند۔ چین کی صورت ِحال حساس: جنرل منوج پانڈے

’آپریشن سندور: شمولیت کے ذریعے فتح‘ تھیم پر مبنی یہ جھانکی قوم کے جدید فوجی نظریے کی ایک مؤثر اور طاقتور عکاسی ہوگی جو درستی، انضمام اور مقامی برتری کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں ہندوستان کی جانب سے سخت پیغام بھی دیا گیا ہے کہ فیصلہ کن، متحد اور خود انحصار فوجی طاقت کا دور آچکا ہے۔

آپریشن سندور نے آتم نربھر بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور وکست بھارت 2047 کی جانب قوم کی غیر متزلزل پیش رفت کی عکاسی کی ہے۔ یہ مستقبل خود انحصاری، مربوط اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں سے عبارت ہے۔ یہ جھانکی تینوں افواج کے تال میل کی اس کہانی کو ایک متحرک اور منظم پیشکش کے ذریعے زندہ کرتی ہے۔

جھانکی کا اگلا حصہ بحریہ کے سمندری تسلط کو ظاہر کرتا ہے، جو سمندری محاذ پر کنٹرول قائم کرتے ہوئے دشمن کو کسی بھی قسم کی کارروائی کی آزادی سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ منظر ہندوستانی فوج کے غیر متزلزل عزم میں بدل جاتا ہے، جہاں ایم 777 الٹرا لائٹ ہووٹزر توپیں درست اور متوازن نشانہ لگانے کی صلاحیت کے ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکارہ بناتی ہیں۔ ان کے پیچھے پہرے دار کی طرح قائم آکاش ایئر ڈیفنس سسٹم ہندوستان کی کثیرجہتی اور مربوط فضائی حفاظتی ڈھال اور ناقابلِ تسخیر فضائی سکیورٹی کو ظاہر کرتا ہے۔

جھانکی کے مرکز میں افواج کی مارک صلاحیت کی جھلک ہے جو قومی سلامتی کے نئے اصول یعنی فوری ردعمل، کنٹرول شدہ اور ادرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ لوئیٹرنگ میونیشن دشمن کے فضائی دفاعی ریڈار کو تباہ کرتا ہے، جو بغیر پائلٹ کے درست جنگی صلاحیت میں ہندوستان کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ اس کے بعد اسکالپ میزائلوں سے لیس رافیل طیارہ دہشت گردانہ ڈھانچے پر سرجیکل اسٹرائیک کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رفتار اور شدت بڑھتی ہے تو سخوئی 30 برہموس سپرسونک کروز میزائل فائر کر کے مضبوط طیارہ پناہ گاہوں کو تباہ کرتا ہے، جو ہندوستان کی گہرائی تک تیز اور مکمل درستی سے وار کرنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

ایس-400 فضائی دفاعی نظام 350 کلومیٹر کے فاصلے پر طویل ترین کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ’ایئر بورن ارلی وارننگ پلیٹ فارم‘ کو ناکارہ بنا دیتا ہے اور ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ ’’ہندوستان پہلے دیکھتا ہے، پہلے فیصلہ کرتا ہے اور پہلے تباہ کرتا ہے۔‘‘

آپریشن سندور کا ہر مرحلہ تینوں افواج کے اتحاد اور انضمام کی پختگی کو نمایاں کرتا ہے، جہاں تمام شعبوں سے خفیہ معلومات کا تبادلہ، اہداف کا درست انتخاب اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مقاصد کا حصول یقینی بنایا جاتا ہے۔

برانڈ انڈیا ڈیفنس سے لیس یہ جھانکی ظاہر کرتی ہے کہ سودیشی دفاعی نظام نہ صرف دوسروں کے برابر ہیں بلکہ قیادت کر رہے ہیں۔ جھانکی میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپریشن سندور محض ایک فوجی ردعمل نہیں ہےبلکہ یہ ہندوستان کا اسٹریٹجک اعلان ہے کہ ’’اتحاد کے ذریعے فتح‘‘ اب اس کی آپریشنل پہچان اور فیصلہ کن شناخت بن چکی ہے۔