امریکہ عالمی ادارہ صحت کی رکنیت سے دستبردار (ویڈیو)
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور مبصر بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے
واشنگٹن : امریکہ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی ہے جس کے بعد جنیوا میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے مشترکہ اعلان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اب عالمی ادارہ صحت کا رکن نہیں رہا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1948 میں ادارے کے قیام کے بعد امریکہ اس کی رکنیت سے دستبردار ہوا ہے۔
امریکا عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون تھا جو کل فنڈز کا 18 فیصد فراہم کرتا تھا، اس فیصلے کی وجہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ناقص حکمت عملی کو قرار دیا گیا ہے۔
العربیہ اردو کے مطابق امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ نے کہا ہے کہ اب امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور مبصر بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکہ اب عالمی ادارہ صحت کی بجائے براہِ راست دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے اور بیماریوں کی نگرانی پر کام کرے گا۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران ادارے سے علیحدگی کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس وقت یہ عمل پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا۔
امریکی قانون کے تحت انخلا سے ایک سال قبل نوٹس دینا اور تقریباً 26 کروڑ ڈالر کے واجبات ادا کرنا ضروری ہیں، تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے رقم کی پیشگی ادائیگی کی شرط کو مسترد کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ حالیہ ہفتوں میں اقوام متحدہ کے دیگر کئی اداروں سے بھی دستبردار ہوچکا ہے، جس سے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم غبریاسس نے رواں ماہ کے آغاز میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ کی جانب سے فنڈنگ روکنے کے بعد ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تمام تر عملی پہلوؤں کے اعتبار سے امریکہ اب عالمی ادارۂ صحت کی سرگرمیوں میں شریک نہیں رہا، تاہم کچھ قانونی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی خواہش ہے کہ امریکہ سمیت تمام ممالک عالمی ادارۂ صحت کے کام میں بھرپور کردار ادا کریں، کیونکہ صحت سے متعلق مسائل کسی سرحد کے پابند نہیں ہوتے۔