امریکہ و کینیڈا

امریکہ نے شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کردیا

جین پیئر نے کہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام کو بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم پر جو بھی الزام لگایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے اور سچ نہیں ہے۔‘‘

واشنگٹن: امریکہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ اطلاع منگل کو مقامی میڈیا کی رپورٹ میں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کرین جین پیئر نے کہا کہ ’کوئی بھی رپورٹ یا افواہ کہ امریکی حکومت ان واقعات میں ملوث تھی، مکمل طور پر جھوٹی ہے، یہ سچ نہیں ہے‘۔

متعلقہ خبریں
چیف منسٹر ریونت ریڈی بدمعاش بی جے پی ایم پی ای راجندر کا الزام
خط اعتماد چرانے والوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: عمران خان
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے خلاف گرفتاری وارنٹ
امریکہ کا ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ
پاکستان تحریک ِ انصاف، طالبان کا سیاسی شعبہ، اے این پی سربراہ ایمل ولی خان کا سنگین الزام

"یہ ایک انتخاب ہے جو بنگلہ دیشی لوگوں نے اپنے لیے کیا ہے،” محترمہ جین پیئر نے کہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام کو بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہیے اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم پر جو بھی الزام لگایا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے اور سچ نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے درمیان اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 5 اگست کو استعفیٰ دے دیا اور ہندوستان آگئیں۔

ایسی اطلاعات آئی ہیں کہ اس نے امریکہ پر بنگلہ دیش کے سینٹ مارٹن جزیرے پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی خواہش کی وجہ سے بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے تاہم میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی کہ سابق وزیر اعظم نے ان کی بے دخلی کا الزام امریکہ پر عائد کرتے ہوئے بیانات جاری کیے تھے۔