امریکہ نے ایران کے 140 فوجی ٹھکانوں پر کیا حملہ
سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے یہ حملہ ایران کی جانب سے قبرص کے جہاز پر کئے گئے حملے کے جواب میں کیا ہے۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزر رہے قبرص کے جھنڈے والے ایک کنٹینر جہاز 'ایم/وی جی ایف ایس گلیکسی' پر حملہ کیا تھا۔
واشنگٹن: امریکہ نے اس ہفتے ایران پر کئے گئے اپنے تیسرے مرحلے کے حملوں کے تحت تقریباً 140 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے یہ اطلاع دی۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا ایکس پر بتایا کہ فوج نے ہفتہ کو زمین اور سمندر سے اڑان بھرنے والے جنگی طیاروں، ڈرون اور بحری جہازوں سے درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کا استعمال کر کے ایران کے تقریباً 140 فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے یہ حملہ ایران کی جانب سے قبرص کے جہاز پر کئے گئے حملے کے جواب میں کیا ہے۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزر رہے قبرص کے جھنڈے والے ایک کنٹینر جہاز ‘ایم/وی جی ایف ایس گلیکسی’ پر حملہ کیا تھا۔
اس حملے کے بعد جہاز کا ایک سویلین عملے کا رکن لاپتہ ہے۔ جہاز میں آگ لگنے اور اس کے انجن روم کو کافی نقصان پہنچنے کے سبب وہ آگے کا سفر کرنے سے قاصر ہے۔ سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملے کا تیسرا دور شروع کیا ہے۔
سینٹ کام نے کہا کہ تجارتی جہازوں پر پہلے ہوئے حملوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے بعد ایران کو جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا تھا لیکن وہ پھر سے اس پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔
اس کے جواب میں امریکہ ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کر کے اسے بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے، جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہریوں اور تجارتی جہازوں پر آسانی سے حملے کرتا ہے۔ یہ حملے کمانڈر ان چیف کی ہدایت پر کئے جا رہے ہیں۔
اس اہم بین الاقوامی سمندری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ سینٹ کام نے بتایا ہے کہ مئی کی شروعات سے امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے 800 سے زیادہ تجارتی جہازوں اور 4000 لاکھ بیرل خام تیل کے محفوظ گزرنے میں مدد کی ہے۔