دہلی

نئے ووٹرز کیلئے  بڑا اعلان الیکشن کمیشن کی نئی اور سخت ہدایت جاری

ح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے حال ہی میں بھارتی حکومت کو ایک خط لکھ کر SIR کے عمل میں شفافیت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا

نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے عمل سے متعلق ایک نئی ہدایت جاری کی ہے، جس کے تحت اب نئے ووٹرز کو فارم 6 جمع کراتے وقت اپنے والدین کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) سے متعلق معلومات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یہ شرط صرف ان موجودہ ووٹرز کے لیے نہیں ہے جو گزشتہ SIR میں شامل نہیں ہو سکے تھے، بلکہ ووٹر لسٹ میں پہلی مرتبہ نام درج کرانے والے تمام نئے درخواست گزاروں پر بھی لاگو ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ والدین کی SIR معلومات فراہم کرنے سے ووٹرز کی درست شناخت اور ریکارڈ کی جانچ میں آسانی ہوگی، جبکہ نئے ووٹرز کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔

حکام کے مطابق اگر کوئی شخص آن لائن فارم 6 کے ذریعے درخواست دیتا ہے تو اس وقت تک درخواست کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا جب تک والدین سے متعلق مطلوبہ SIR اعلامیہ پُر نہ کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ اعلامیہ باضابطہ ہدایات کے ذریعے شامل کیا گیا ہے، جبکہ فارم 6 کی اصل ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR کا مقصد تمام اہل بھارتی شہریوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنا اور ایسے ناموں کو حذف کرنا ہے جو نقل (Duplicate)، وفات پا چکے ہوں، مستقل طور پر منتقل ہو گئے ہوں، طویل عرصے سے غیر حاضر ہوں یا غیر ملکی شہری ہوں۔

الیکشن کمیشن نے اقلیتی ووٹروں، خصوصاً مغربی بنگال کے نندی گرام میں مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔

حکام کے مطابق جن افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے، انہیں اپیل اور اعتراض درج کرانے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا، اور یہ پورا عمل شفاف، آئینی اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے حال ہی میں بھارتی حکومت کو ایک خط لکھ کر SIR کے عمل میں شفافیت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔