وزیر کا انوکھا تجربہ بھیس بدل کر بس میں سفر مہنگا پڑ گیا
وزیر نے ہفتہ کی رات اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر تقریباً دو گھنٹے تک بی ایم ٹی سی کی دس سے زائد بسوں میں سفر کیا
بنگلورو : کرناٹک کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بیاراتھی سریش کو اس وقت بنگلورو کے عام مسافروں کو پیش آنے والی روزمرہ مشکلات کا براہِ راست تجربہ ہوا، جب وہ ایک عام مسافر کا بھیس بدل کر بی ایم ٹی سی (بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن) کی بس میں سوار ہوئے، لیکن کنڈکٹر نے کھلے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بس سے اتر جانے کو کہا۔
وزیر نے ہفتہ کی رات اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر تقریباً دو گھنٹے تک بی ایم ٹی سی کی دس سے زائد بسوں میں سفر کیا تاکہ عوامی ٹرانسپورٹ میں مسافروں کو درپیش مسائل کا خود مشاہدہ کر سکیں۔ اس دوران انہوں نے ان مشکلات کا قریب سے جائزہ لیا جن کا عام شہریوں کو روزانہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ہیبل سے ناگاشیٹی ہلی جا رہے تھے۔ ٹکٹ خریدنے کے لیے انہوں نے 100 روپے کا نوٹ دیا، تاہم کنڈکٹر نے یہ کہتے ہوئے ٹکٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں اور مسافر کو بس سے اترنے کا مشورہ دیا۔ کنڈکٹر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جس مسافر سے وہ بات کر رہا ہے، وہ ریاست کا وزیرِ ٹرانسپورٹ ہے۔ اس واقعے نے شہر کے مسافروں کی اس عام شکایت کو اجاگر کیا کہ بسوں میں کھلے پیسوں کی کمی اکثر مشکلات کا باعث بنتی ہے۔
اچانک کیے گئے اس معائنے میں صرف یہی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ ایک دوسری بس میں وزیر نے دیکھا کہ ڈرائیور اور کنڈکٹر نے ایک مسافر کی فن ورلڈ بس اسٹاپ پر بس روکنے کی درخواست کو نظر انداز کر دیا، جس کے باعث وہ اپنے مقررہ اسٹاپ پر نہیں اتر سکا۔ وزیر نے اسے سنگین لاپروائی قرار دیتے ہوئے دونوں ملازمین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔
ناگاشیٹی ہلی پہنچنے کے بعد انہوں نے ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کے معاملے میں بھی مداخلت کی، جس نے مبینہ طور پر میٹر پر 30 روپے کرایہ ظاہر ہونے کے باوجود مسافر سے 36 روپے طلب کیے تھے۔ اس واقعے نے بھی مسافروں سے زائد کرایہ وصول کیے جانے کے مسئلے کو نمایاں کیا۔
بعد ازاں بیاراتھی سریش نے کہا کہ اس خفیہ معائنے کا مقصد سرکاری رپورٹوں پر انحصار کرنے کے بجائے عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں کے تجربات کو براہِ راست سمجھنا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جوابدہی، نظم و ضبط اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اس طرح کے اچانک معائنے آئندہ بھی جاری رہیں گے۔