حیدرآباد

شہرحیدرآباد میں سائیکل ٹریک کی تعمیر کا کام شروع

گریٹرحیدرآبادمیونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے حیدرآباد میں فضائی آلودگی کو کم کرنے اور سائیکل سواروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔

حیدرآباد: گریٹرحیدرآبادمیونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) نے حیدرآباد میں فضائی آلودگی کو کم کرنے اور سائیکل سواروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
عوامی اپیلوں کا فوری حل: کمشنر بلدیہ ڈاکٹر اشونی تاناجی وکڑے کی کوششیں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

شہر میں سائیکل ٹریک کی تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 65 کلو میٹر سائیکل ٹریک دستیاب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کے بی آر پارک میں 5 کلومیٹر طویل سائیکل ٹریک کو جلد شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

وزیرآئی ٹی تارک راما راو اس ٹریک کا افتتاح کریں گے۔ جی ایچ ایم سی، نیکلس روڈ پر جلد ہی ایک مستقل سائیکل ٹریک قائم کرنے کی کوششیں کر ری ہے۔

ابتدائی طور پر حکام کا خیال تھا کہ کے بی آر پارک میں ایک مستقل سائیکل ٹریک دستیاب کرایا جائے لیکن کے بی آر پارک میں بھاری ٹریفک اور پیدل آنے والوں کی بڑی تعداد کے باعث مستقل ٹریک قائم ہونے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پہلے زرد اور سبز رنگ میں 5 کلومیٹر کا عارضی سائیکل ٹریک بنایا گیا ہے۔او آر آر پر سائیکل ٹریک کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔

آوٹر رنگ روڈ پر 23 کلومیٹر طویل سائیکلنگ ٹریک بنایاجا رہا ہے۔ ان بین الاقوامی معیار کے سائیکل ٹریکس پر ریسٹ رومس کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے، موٹر سائیکلوں، کاروں اور سائیکلوں کے لیے پارکنگ کی خصوصی جگہ اور فوڈ کورٹس قائم کیے جائیں گے۔

بارش اور دھوپ سے بچنے کے لیے سولارروف بھی لگایا جا رہا ہے۔ وہاں عوام کو کرائے کی بنیاد پر سائیکلیں دستیاب کرائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ رات کے اوقات میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔جی ایچ ایم سی حیدرآباد کو مزید ترقی دینے کے لیے کئی اقدامات کر رہا ہے۔

شہر میں ٹریفک کے مسئلہ کو روکنے کے لیے پہلے ہی کئی علاقوں میں فلائی اوور بنائے جا رہے ہیں۔

بیشتر فلائی اوور پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں اور گاڑی سواروں کے لیے دستیاب کروائے گئے ہیں، بعض دیگر زیر تعمیر ہیں۔ راہگیروں کی حفاظت کے لیے اسکائی واک کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔