Uncategorized

افواہوں کے سائے میں شہر، حیدرآباد کے مختلف پٹرول پمپس پر افراتفری کے مناظر

مغربی ایشاء میں جاری جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قلت کی افواہوں کے سبب صارفین نے گھبراہٹ میں خریداری شروع کردی اور حیدرآباد کے مختلف پٹرول پمپس پر افرا تفری کے مناظر دیکھے گئے۔

حیدرآباد (آئی اے این ایس)مغربی ایشاء میں جاری جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قلت کی افواہوں کے سبب صارفین نے گھبراہٹ میں خریداری شروع کردی اور حیدرآباد کے مختلف پٹرول پمپس پر افرا تفری کے مناظر دیکھے گئے۔

متعلقہ خبریں
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
درگاہ حضرت سید شاہ افضل بیابانیؒ پر سجادہ نشین بارگاہ رفائیؒ، عراق کی زیارت
تلنگانہ میں ای ڈی نے بھارتی بلڈرز کی جائیداد ضبط کرلی
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور

حیدرآباد، سکندرآباد اور مضافاتی علاقوں کے تقریباً تمام پٹرول پمپس پرموٹر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں جبکہ حکام نے عوام کو تیقن دیا کہ کافی اسٹاک دستیاب ہے۔بڑے پٹرول پمپس پر سینکڑوں گاڑیاں بشمول ٹرکس، بسس، ویانس اور کارس کی طویل قطاریں دیکھی گئی جس کے نتیجہ میں ٹرافک جام ہوگئی۔

گاڑیوں کے مالکین کوپٹرول اور ڈیزل بھروانے کیلئے کئی گھنٹوں تک لائنوں میں انتظار کرتے دیکھا گیا۔ امیر پیٹ، خیریت آباد، لکڑی کا پل، بیگم پیٹ، سکندرآباد، نامپلی، عابڈس، مہدی پٹنم، کوٹھی، عطا پور، کوکٹ پلی، ایرا گڈہ، ایل بی نگراور و نستھلی پورم میں فیول اسٹیشنوں پر افرا تفری کے مناظر دیکھے گئے۔کئی پٹرول پمپوں پر ”نو اسٹاک“ کے بورڈ لگا دئیے گئے کیونکہ گھبراہٹ میں خریداری کی وجہ سے اسٹاک ختم ہوگیا۔

میدک، محبوب نگر، کریم نگر،ورنگل،نرمل اور تلنگانہ کے دیگر ٹاؤنس میں بھی مماثل صورتحال رہی۔ اسی دوران تلنگانہ پٹرولیم ڈیلرس اسوسی ایشن نے عوام کو تیقن دیا کہ ایندھن کی کوئی کمی نہیں اور ایچ پی سی ایل، بی پی سی ایل اور آئی او سی ایل کے پاس کافی اسٹاک دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قلت کے بارے جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کے گردش کرنے سے کئی لوگ فیول اسٹیشنوں پر پہنچ کر اپنے ٹینکس فل کروارہے ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس گھبراہٹ میں خریداری کے سبب فروخت میں معمول کی سطح کے مقابل ڈھائی تا تین گنا اضافہ ہوگیا ہے اور اس کے نتیجہ میں کئی پٹرول پمپوں پر عارضی طور پر اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔

تلنگانہ پٹرولیم ڈیلرس اسوسی ایشن کے صدر مری امریندر ریڈی نے شہریوں کو تیقن دیا کہ ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور سپلائی چینس معمول کے مطابق کام کررہی ہیں۔اسوسی ایشن نے شہریوں کو انتباہ دیا کہ ذخیرہ کرنے کیلئے ڈبوں میں پٹرول یا ڈیزل لیجانا‘پٹرولیم اینڈ ایکسپلوسیوز سیفٹی آر گنائزیشن (پی ای ایس او) کے اصولوں کے خلاف ہے اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

حکومت تلنگانہ کے امور صارفین، فوڈ اینڈ سیول سپلائیز ڈپارٹمنٹ نے زور دیکر وضاحت کی کہ ریاست میں کہیں بھی پٹرول، ڈیزل یا گھریلو پکوان گیس کی قطعی کوئی قلت نہیں ہے۔محکمہ نے کہا کہ آئیل ریفائنریز سے لیکر مقامی ڈپوز تک سپلائی چین پوری طرح کارکرد ہے اور تمام اضلاع میں تمام شہریوں کی روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل کیلئے کافی اسٹاک دستیاب ہے۔

محکمہ نے کہا کہ بعض پٹرول پمپس پر طویل قطاروں اور عارضی ”نو اسٹاک“ کے بورڈس کی اطلاعات محض اچانک اور جھوٹی افواہوں کی وجہ سے گھبراہٹ میں غیر ضروری خریداری کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب شہری غیر ضروری طور پر اپنے ٹینک فل کروانے دوڑ پڑتے ہیں تو اس کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا ہوجاتی ہے حالانکہ ڈپوز پر کافی فیول دستیاب ہے۔