ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں: مرکزی حکومت کی وضاحت
حکومت کے مطابق خلیج فارس سے روانہ ہونے والا ایل پی جی بردار جہاز شیوالک آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر کے اب بھارت کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
حیدرآباد: ملک میں ایل پی جی گیس کی قلت اور جلد ہی گیس سلنڈر کی قیمت 2000 روپے سے تجاوز کرنے کی افواہوں کے درمیان مرکزی حکومت نے اہم وضاحت جاری کی ہے۔ حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی گیس سلنڈروں کی فراہمی سو فیصد دستیاب ہے اور ملک کی تمام ریاستوں میں گھریلو ضروریات کے لیے وافر مقدار میں ایل پی جی اسٹاک موجود ہے۔
مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی بھی کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ تمام تیل صاف کرنے والے کارخانے یعنی ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔
حکومت کے مطابق خلیج فارس سے روانہ ہونے والا ایل پی جی بردار جہاز شیوالک آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر کے اب بھارت کے ساحل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
مرکزی حکومت نے یہ بھی بتایا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کے باعث جو بھارتی جہاز وہاں رکے ہوئے تھے وہ سب محفوظ ہیں اور حکومت مسلسل حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ہر جہاز کے عملے سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان کے مطابق خلیج فارس کے علاقے میں اس وقت بھارتی پرچم بردار 22 جہاز موجود ہیں جن میں کل 611 افراد پر مشتمل عملہ سوار ہے۔ حکومت نے یقین دلایا کہ حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔