حیدرآباد

یہ کوئی جنگ زدہ ملک نہیں،پٹن چیرو میں ہوئی حائیڈرا کی انہدامی کارروائی کا منظرہے

سرکاری مشنری کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے مقامی لوگ اور متاثرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ Hydra صرف غریب اور متوسط طبقہ کے گھروں پر کارروائی کیوں کرتی ہے؟

حیدرآباد: حیدرآباد کے پٹن چیرو علاقہ کے پٹیل گوڑہ میں تین ماہ قبل سرکاری ادارہ "Hydra” نے کئی گھروں کو غیر قانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے زمین بوس کر دیا تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان گھروں کے ملبہ کو ابھی تک صاف نہیں کیا گیا، جس سے مقامی رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

یہ وہ گھر تھے جو غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی سے تعمیر کیے تھے۔ اپنے خوابوں کا گھر آنکھوں کے سامنے زمین بوس ہوتے دیکھ کر متاثرین بے بسی کے عالم میں ہیں۔ مزید اذیت یہ ہے کہ یہ لوگ نہ صرف ان شیشے اور کنکریٹ کے ڈھیروں کو برداشت کر رہے ہیں، بلکہ ان گھروں کیلئے لیے گئے قرضوں کی EMI بھی ادا کر رہے ہیں، چاہے گھر موجود نہ ہوں۔

سرکاری مشنری کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے مقامی لوگ اور متاثرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ Hydra صرف غریب اور متوسط طبقہ کے گھروں پر کارروائی کیوں کرتی ہے؟

چیف منسٹر کے قریبی رشتہ داروں کی زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات ہوں یا وزراء اور ایم ایل اے کے تالابوں پر قائم عالیشان عمارات، ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟

متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر اس مسئلہ کے حل کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ حکومتی بے حسی اور Hydra کی جارحانہ کارروائیوں کے باعث ان کے لیے زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

متاثرہ گھروں کے ملبے کو جلد از جلد صاف کیا جائے۔ متاثرین کو ان کے گھروں کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کے نام پر صرف غریبوں کو نشانہ بنانے کے بجائے طاقتور اور بااثر افراد کے خلاف بھی یکساں کارروائی کی جائے۔

یہ تباہی شام یا غزہ کی طرح کسی جنگ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سرکاری مشنری کی غیر متوازن اور دوہرے معیار پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ حکومت سے انصاف کی امید کر رہے ہیں، لیکن اس وقت ان کی آواز صدا بصحرا معلوم ہو رہی ہے۔