تلنگانہ میں ایک ہی دن میں تین کسانوں کی خودکشی۔ کے ٹی راماراو نے کانگریس حکومت کی نااہلی کو ذمہ دار قرار دیا
بی آر ایس لیڈر نے الزام لگایا کہ حکومت نہ صرف قرض معافی میں ناکام رہی بلکہ کسانوں کو سرمایہ کاری کی مدد دینے اور بروقت یوریا فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 900 کسان خودکشی کر چکے ہیں لیکن حکومت بے حس بنی ہوئی ہے۔
حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے تلنگانہ میں ایک ہی دن تین کسانوں کی خودکشی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
انہوں نے اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار کانگریس حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ریاست میں زرعی بحران ابتر ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کے ٹی آر نے کہا کہ عادل آباد، میدک اور جئے شنکر بھوپال پلی اضلاع سے سامنے آنے والے یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تلنگانہ میں متحدہ ریاست کے دور جیسے حالات دوبارہ پیدا ہو رہے ہیں۔
کے ٹی آر نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات کا گناہ ایک نااہل حکومت کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان کسانوں کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے بطور مالی امداد فراہم کرے۔
کے ٹی آر کا دعویٰ ہے کہ قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے کسان یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں جس نے ریونت حکومت کے قرض معافی کے جھوٹے وعدوں کی قلعی کھول دی ہے۔
بی آر ایس لیڈر نے الزام لگایا کہ حکومت نہ صرف قرض معافی میں ناکام رہی بلکہ کسانوں کو سرمایہ کاری کی مدد دینے اور بروقت یوریا فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 900 کسان خودکشی کر چکے ہیں لیکن حکومت بے حس بنی ہوئی ہے۔
کے ٹی آر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور صبر سے کام لیں، ساتھ ہی انہوں نے کسانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اگلے انتخابات میں کانگریس کو شکست دے کر زراعت کے سنہرے دور کو واپس لانے میں مدد کریں۔