حیدرآباد

وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اسے اطاعتِ الٰہی میں لگائیں: مفتی صابر پاشاہ قادری

انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو زندگی ایک مقررہ مدت کے لیے عطا کی گئی ہے، جو لمحہ گزر جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ اس لیے عقلمندی اسی میں ہے کہ ہر لمحے کو کارآمد بنایا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "دنیا آخرت کی کھیتی ہے، جو ہم آج بوئیں گے، کل قیامت کے دن وہی کاٹیں گے۔"

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤس نامپلی، حیدرآباد کے خطیب و امام، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے وقت کی اہمیت اور اس کے بہتر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ "وقت” ہے، اور وہی وقت بہترین ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت، اتباع اور انسانیت کی خدمت میں صرف ہو۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
حج امت مسلمہ کی اقتصادی اور روحانی طاقت کا مظہر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا بیان
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو زندگی ایک مقررہ مدت کے لیے عطا کی گئی ہے، جو لمحہ گزر جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ اس لیے عقلمندی اسی میں ہے کہ ہر لمحے کو کارآمد بنایا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "دنیا آخرت کی کھیتی ہے، جو ہم آج بوئیں گے، کل قیامت کے دن وہی کاٹیں گے۔”

مولانا نے موجودہ دور کی المیہ صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے انسان سے اُس کا قیمتی وقت چھین لیا ہے۔ غور و فکر، تدبر اور فلاحی سرگرمیوں کی جگہ فضول مشاغل اور لغو باتوں نے لے لی ہے، جس کے نتائج دنیا و آخرت میں خسارے کی صورت میں نکلتے ہیں۔

انہوں نے قرآن و حدیث سے وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف مقامات کا حوالہ دیا جہاں اللہ تعالیٰ نے "زمانہ”، "صبح”، "رات”، اور "دن” کی قسم کھا کر وقت کی قدر کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔ نیز، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر، علم، مال اور جسم کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔

مولانا صابر پاشاہ نے احادیث کے تناظر میں یہ پیغام دیا کہ:

  • وقت، صحت اور فراغت کی نعمتوں کی قدر کریں۔
  • وقت کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں لگائیں۔
  • آخرت کی تیاری دنیاوی مصروفیات سے زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے سلف صالحین، صحابہ کرام، تابعین اور اکابر علماء کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگیاں عبادت، علم، خدمتِ خلق اور تبلیغِ دین کے لیے وقف کیں۔ ان کی زندگیوں سے سبق لیتے ہوئے ہمیں بھی وقت کو فضول کاموں میں ضائع کرنے کے بجائے، مثبت سرگرمیوں میں صرف کرنا چاہیے۔

اختتام میں مولانا نے نوجوانوں کو خاص طور پر پیغام دیا کہ وہ اپنی جوانی، صحت اور وقت کو قیمتی سمجھتے ہوئے دین و دنیا میں بہتری کے لیے استعمال کریں تاکہ قیامت کے دن فلاح و نجات حاصل ہو سکے۔