حیدرآباد

ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے خواجہ سرا کو ویران مقام لے جا کر تشدد، ایک گرفتار—دو مفرور

آن لائن ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے بلوا کر، ویران مقام پر لے جاکر تین افراد نے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ اس پر تشدد بھی کیا۔

حیدرآباد: حبیب نگر پولیس اسٹیشن حدود میں ایک ٹرانس جینڈر پر حملہ کیے جانے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ آن لائن ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے بلوا کر، ویران مقام پر لے جاکر تین افراد نے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ اس پر تشدد بھی کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو افراد تاحال مفرور ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
اردو زبان عالمی سطح پر مقبول، کالج آف لینگویجز ملے پلی میں کامیاب سمینار کا انعقاد
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا

پولیس کے مطابق، ملزمان نے ٹرانس جینڈر سے گرینڈر (Grindr) ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور ملاقات کے بہانے اسے اپنے پاس بلوایا۔ حملے میں ملوث تین افراد کی شناخت اس طرح کی گئی ہے:

  1. ریان عرف فہاد — افضل ساگر کے ایک ایم آئی ایم رہنما کا بیٹا
  2. عفان عرف جعفر
  3. احمد

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان متاثرہ شخص کو ایک سنسان مقام پر لے گئے، جہاں انہوں نے نہ صرف نازیبا رویہ اختیار کیا بلکہ اسے ₹30,000 ادا کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ رقم دینے سے انکار کرنے پر تینوں نے ٹرانس جینڈر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے چوٹیں بھی آئیں۔

متاثرہ ٹرانس جینڈر کی شکایت پر حبیب نگر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کیا۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی دو افراد فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تلاش میں مصروف ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔