بی ای اور بی ٹیک کورسس کیلئے ٹیوشن فیس مقرر
محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق کم از کم سالانہ فیس 45 ہزار روپے رکھی گئی ہے جبکہ محکمہ مالیات نے 160 نجی غیر امدادی کالجوں کے لیے نظرثانی شدہ فیسوں کی منظوری دی ہے۔
حیدرآباد : منصف نیوز بیورو | حکومت نے ریاست کی تمام نجی غیر امدادی انجینئرنگ کالجوں میں بی ای اور بی ٹیک کورسس کے لیے تعلیمی مدت 2025 تا 2028 کے دوران سالانہ ٹیوشن فیس مقرر کر دی ہے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق کم از کم سالانہ فیس 45 ہزار روپے رکھی گئی ہے جبکہ محکمہ مالیات نے 160 نجی غیر امدادی کالجوں کے لیے نظرثانی شدہ فیسوں کی منظوری دی ہے۔
ان میں 33 کالج ایسے ہیں جہاں سالانہ فیس ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہوگی جبکہ دو کالج ایک لاکھ روپے سالانہ فیس وصول کریں گے۔ یہ فیس اسٹرکچر ایڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی (TAFRC) کی سفارشات کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے جس میں این اے اے سی منظوری، پلیسمنٹ کی کارکردگی اور تعلیمی معیار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
چیتنیا بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو سب سے زیادہ 1.83 لاکھ روپے سالانہ فیس لینے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ وساوی کالج آف انجینئرنگ کی فیس 1.75 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
دیگر اداروں میں جی نارائن اما انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس فار ویمن، سی وی آر کالج آف انجینئرنگ، گوکراجو رنگاراجو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور بی وی راجو انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ ٹی اے ایف آر سی کے مطابق 19 کالجوں کی ٹیوشن فیس میں کمی کی گئی ہے جبکہ تقریباً 70 کالج موجودہ فیس اسٹرکچر برقرار رکھیں گے۔
کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی ادارے کیپیٹیشن فیس یا چندے کے نام پر کوئی اضافی رقم وصول نہ کریں، تاہم کئی پیشہ ورانہ کالجوں نے اس فیصلے پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے فیس طے کرنے سے پہلے مناسب سروے نہیں کیا۔