تلنگانہ

یوگادی تقریبات: تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریڈی نے پنچانگم جاری کیا، کسانوں پر توجہ دینے کا عزم

انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقریباً 70 فیصد فیملی زراعت پر منحصر ہیں، اسی لیے حکومت نے کسانوں کو قرض سے نجات دلانے کے لیے دو لاکھ روپے تک کے قرض معاف کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’رَیتھو بھروسہ‘‘ اسکیم کے تحت 18,000 کروڑ روپے مختص اور خرچ کیے جا چکے ہیں اور ایک اور قسط 22 مارچ کو جاری کی جائے گی۔

حیدرآباد: سری پرابھوا ناما یوگادی تقریبات جمعرات کو تلنگانہ محکمہ زبان و ثقافت اور محکمہ اوقاف کے زیرِ اہتمام رویندر بھارتی میں شاندار انداز میں منعقد ہوئیں۔

متعلقہ خبریں
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
گورنر، کویتا اور کے ٹی آر کی عوام کو اگادی کی مبارکباد
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی


وزیرِ اعلیٰ اے ریونت ریڈی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور سری پرابھوا ناما یوگادی پنچانگم (المانک) جاری کیا۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعلیٰ بھٹی وکرمارکا، وزراء جوپلی کرشنا راؤ، کونڈا شوریکھا، پونگولیٹی سرینواس ریڈی، پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ، رکنِ پارلیمان ویم نریندر ریڈی، ارکانِ اسمبلی، کونسل، کارپوریشن چیئرمین اور سینئر افسران موجود تھے۔


اپنے خطاب میں اس دوران وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ نیا سال کسانوں کے نام ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت زراعت کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کرنے اور کسانوں کو عزت و خوشحالی کی منزل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو ان کی پیداوار کے منافع بخش نرخوں کے ساتھ بونس بھی فراہم کر رہی ہے اور تلنگانہ ملک کی اُن ریاستوں میں شامل ہے جہاں کسانوں پر قرض کا بوجھ سب سے کم ہے۔


انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقریباً 70 فیصد فیملی زراعت پر منحصر ہیں، اسی لیے حکومت نے کسانوں کو قرض سے نجات دلانے کے لیے دو لاکھ روپے تک کے قرض معاف کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’رَیتھو بھروسہ‘‘ اسکیم کے تحت 18,000 کروڑ روپے مختص اور خرچ کیے جا چکے ہیں اور ایک اور قسط 22 مارچ کو جاری کی جائے گی۔


وزیرِ اعلیٰ نے کسانوں کی فلاح پر حکومت کی توجہ دہراتے ہوئے کہا کہ زمین سے متعلق مسائل کو ’’بھو بھارتی‘‘ منصوبے کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ریاست کے ملک کی بہترین کارکردگی دکھانے والے صوبوں میں شامل ہونے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت قدرتی آفات کے خلاف محتاط ہے۔ آخر میں انہوں نے تمام شہریوں کے لیے امن، خوشحالی اور نیک بختی کی امید ظاہر کی۔