سنبھل فائرنگ میں اترپردیش حکومت کا جھوٹ بے نقاب ہوا
سنبھل کی شاہی جامع مسجد کو 'ہری ہرمندر' بتا کر تنازعہ کھڑا کرنے کے واقعے میں پانچ مسلم نوجوان مارے گئے تھے۔
لکھنؤ : کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) نے بدھ کو کہا کہ سنبھل میں 24 نومبر 2024 کو ہونے والے تشدد میں عدالت نے اس وقت کے سی او انوج چودھری اور کوتوال سمیت 20 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ریاستی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ہے۔
پارٹی کے کارگزارریاستی سکریٹری ایشوری پرساد کشواہا نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سنبھل تشدد ریاست کی سرپرستی میں ہوا تھا۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کو ‘ہری ہرمندر’ بتا کر تنازعہ کھڑا کرنے کے واقعے میں پانچ مسلم نوجوان مارے گئے تھے۔ تمام کو گولی لگی تھی، لیکن پولیس نے اپنی گولی سے موت ہونے سے انکار کیا تھا۔
ریاستی حکومت نے بھی پولیس کی بات کو ہی دہرایا تھا اور الٹا الزام مظاہرین پر ہی مڑھ دیا گیا تھا کہ ان کی طرف سے چلائی گئی گولی سے اموات ہوئیں۔ پولیس جانچ میں پولیس اہلکاروں کو کلین چٹ دی گئی تھی۔مسٹر کشواہا نے کہا کہ سنبھل کی سی جے ایم کورٹ کی جانب سے ایک متوفی لڑکے کے والد کی عرضی پر سماعت کے بعد منگل کو دیے گئے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ پولیس اور حکومت کی جانب سے تیار کردہ بیانیے میں سچ کو چھپایا گیاہے۔
معاملے کی جانچ کے لیے حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن نے بھی جھوٹ نہیں پکڑا۔ عدالت نے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے جانچ شروع کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن سنبھل کے ایس پی کا یہ بیان کہ اعلیٰ عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل ہونے تک ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی، عدلیہ کی توہین ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سنبھل میں ایک ہندو مہنت کی عرضی پر سول کورٹ نے شاہی جامع مسجد کے ‘کمشنرایڈووکیٹ سروے’ کا حکم دیا تھا، جس پر 19 نومبر 2024 کو سروے پرامن طریقے سے مکمل ہوا۔ معاملہ تب بگڑا جب 24 نومبر کو سروے ٹیم دوبارہ سروے کرنے شاہی جامع مسجد پہنچی اور موقع پر شری رام کے نعرے لگائے گئے۔