مشرق وسطیٰ

اسرائیلی انتخابات میں دائیں بازو کا غلبہ، نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی کی کوشش

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نئی حکومت میں قدامت پسند یہودی جماعتوں کو جگہ مل سکتی ہے، جبکہ فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی عرب جماعتیں اقتدار سے باہر رہ سکتی ہیں۔

  • فلسطینیوں کے حقوق اور غزہ میں جنگ کا معاملہ انتخابی ایجنڈے سے دور، عرب جماعتوں کی حکومتی شمولیت پر بھی سوالات

اسرائیل: اسرائیل میں انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کا اثر مضبوط ہوا ہے، جس کے باعث نئی حکومت سے فلسطینی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی توقع کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کامیابی کی صورت میں قانون کی حکمرانی کو فروغ مل سکتا ہے، تاہم غزہ کی جنگ اور فلسطینیوں کے حقوق جیسے مسائل پر بنیادی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں اور مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد کے باوجود امن کا معاملہ انتخابی مہم کا مرکزی موضوع نہیں بن سکا ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ نئی حکومت میں قدامت پسند یہودی جماعتوں کو جگہ مل سکتی ہے، جبکہ فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی عرب جماعتیں اقتدار سے باہر رہ سکتی ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے سابق مشیر ڈینیئل لیوی کے مطابق، اہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے غزہ میں کارروائیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کی واضح مخالفت نہ کیے جانے کے باعث انتخابات کو ان معاملات پر عوامی ریفرنڈم قرار دینا مشکل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت تبدیل ہونے کے باوجود فلسطینی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود ہیں۔