جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور معیشت کو متاثر کر دیا ہے۔ اس تنازعہ میں عالمی طاقتوں کی صف بندی، سفارتی حکمت عملی اور علاقائی مفادات نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حساس حالات میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور اس کا محتاط رویہ بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
l مشرق وسطی کی جنگ میں ہندوستان کا وقار متاثر
l ایران کی طاقت سے امریکہ شدید خائف
l اسرائیلی عوام میں بے چینی
ایران اور اسرائیل کی موجودہ جنگ میں ہمارے ملک کا کردار اب وہ نہیں رہا ہے جو کسی زمانہ میں Non Alligned Movement کی وجہ سے ہمیں غیر معمولی عزت اور توقیر سے دیکھا جاتا تھا۔ وشاکھاپٹنم میں نیول اکسائز میں حصہ لے کر اپنے وطن واپس جانے والے ایرانی جہاز کو امریکہ نے اپنی طاقت سے ڈبودیا تو اس پر بھی ہندوستان کا کوئی ردعمل کا نہیں آنا ہماری قوم کے لئے باعث شرم رہا۔
اسی طرح جب ایران کے عظیم روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر بھی ہندوستان کی قیادت نے افسوس کا اظہار نہیں کیا تو عالمی سطح پر اس کی زبردست لعن تان کی گئی اور آپ کی شہادت کے چھ دن بعد ہندوستان کے معتمد خارجہ نے ایرانی ایمبسی میں جاکر اپنا تعزیتی بیان درج کیا لیکن ابھی تک نہ تووزیراعظم نے اس مسئلہ پر افسوس کا اظہار کیا اور نہ ہی وزیر خارجہ نے اس بارے میں کچھ کہا۔
اس بات کا تصو ر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے ملک میں آئے ہوئے مہمان ایران کے جہاز کو ڈبودینے کا امریکہ کا موقع دیا گیا۔ یہ واقعہ سری لنکا کے سمندری حدود میں پیش آیا۔ قابل تحسین ہے سری لنکا جس نے فوراً حرکت میں آکر ایران کے لگ بھگ 30 فوجیوں کو بچالیا۔ اس پر بھی ابھی تک ہندوستان نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ سمجھا جارہا تھا کہ اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد ایران کمزور ہوجائے گا تو ایسا نہیں ہوا بلکہ ایران 100 گنا زیادہ طاقت کے ذریعہ امریکہ اور اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے کے درپہ ہے۔
یہ بات قابل تحسین ہے کہ ایران کے پاس ماہانہ ایکسو میزائلس بنانے کی طاقت حاصل ہے تو وہیں پر امریکہ ہر مہینہ صرف 6انٹر سیپٹرس بنانے کے لائق ہے یعنی ایران کے صرف 6میزائیلس کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے تو پھر بچے ہوئے 94 میزائیل کا کس طرح سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے؟ امریکہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرے گا لیکن ایران کی صلاحیتوں کو دیکھ کر وہ بے انتہا پریشان ہے اور اسے اس بات کا ڈر لگ رہا ہے کہ جس طرح سے ویتنام اور افغانستان کے خلاف اسے شکست فاش ہوئی تھی ویسی ہی صورتحال ایران کے ہاتھوں سے بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
جنرل مانیک شاہ کا ایک مشہور قول ہے کہ ’’جنگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود دماغ سے لڑی جاتی ہے‘‘۔ اس معاملہ میں ایران کی 5ہزار سالہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے شکست کو ہمیشہ کامیابی میں بدلا ہے اور اس بار بھی ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے۔ دنیا کی جنگوں کے مختلف ماہرین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جو جذبہ ایران کے پاس ہے وہ جذبہ امریکہ اور اسرائیل میں نہیں دکھائی دیتا ۔ کچھ ملک جو امریکہ کے ذہنی غلام ہیں ، امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے لیکن ایران کے کڑے رخ کو دیکھ کر وہ اب پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین اور روس ہر طرح سے ایران کے ساتھ ہیں۔ روس اور چین کے سوا کسی بھی ملک کو اس بات کی اجاز ت نہیں ہے کہ ایران کے زیر اثر دریائے ہرمز کو استعمال کیا جاسکے۔اس وقت ہندوستان کے لگ بھگ 1100 سیلرز اور 38 جہاز اور اس میں ہزاروں کروڑ کا مال ایران میں پھنسا ہوا ہے اور ہندوستان اپنی کمزور پالیسی کی وجہ سے انہیں فی الفور واپس لانے کے موقف میں نہیں ہے۔ جنگ چاہے کسی بھی خطہ میں ہو وہ صرف تباہی ہی لاسکتی ہے۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل دریافت نہیں کرسکتی ہے سوائے اس کے کہ اپنے اپنے ملکوں میں ہوئی نقصان کی گنتی کی جاسکے۔
حالات اگر مزید خراب ہوجاتے ہیں تو ہندوستان کے لگ بھگ ایک کروڑ تارکین وطن مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ ان کا مستقبل ہمارے ملک کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ تنازعہ صرف دو ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے مذہبی، سیاسی اور جغرافیائی عوامل بھی شامل ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز رہتی ہے۔ ایران‘ فلسطینی عوام کی حمایت کرتا ہے اور فلسطین کے مسئلے کو ایک اہم انسانی اور سیاسی مسئلہ قرار دیتا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل خود کو خطے میں ایک مضبوط ریاست کے طور پر دیکھتا ہے اور اپنی سلامتی کو سب سے اہم سمجھتا ہے۔ اسی اختلاف کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایران پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ خطے میں بعض تنظیموں کی حمایت کرتا ہے، جیسے حماس اور حزب اللہ۔ اسرائیل ان تنظیموں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور ان کے خلاف کارروائیاں کرتا رہتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے کئی مرتبہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے۔ اسرائیل اور بعض مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اسی مسئلے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ یونہی چلتی رہے گی تو اس کے اثرات صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت پر دباؤ اور خطے میں عدم استحکام جیسے مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ایک پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف مذاکرات، امن اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے تو خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ایران نے واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ جنگ امریکہ اور اسرائیل نے شروع کی ہے لیکن اسے صرف ایران ہی ختم کرے گا۔ اس نے کہا کہ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ اگر بات چیت ہوگی تو صرف اس شرط پر بات چیت ہوگی کہ اسرائیل غزہ کو مکمل طورپر چھوڑ دے اور ایران کو اس کے پرامن نیوکلیائی پروگرام کو جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ بہرحال
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہی تو بہتر ہے
٭٭٭