مضامین

ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ, یورپ اور امریکہ کے حالات

آپ کو یاد دلادوں کی فلاحی ریاست کا مطلب یہ ہے کی عام رعا یہ کو تمام سہولتیں فراہم کریں جیسے کی فری تعلیم، فری انشورینس، پینشن، اور کئی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔

انیسویں صدی کے شروع میں جیسے جیسے یورپ کی ترقی بڑھتی گئی لوگوں میں اضطراب بھی بہت بڑھ گیا اور بہت سارے سماجی مسائل اور معاشراتی مسائل اور عدم مساوات کے مسئلوں سے دو چار ہونے لگا اب یہ حال ہو گیا ہے کی پوری طرح اپنے آپ کو نہ سر مایدار کہ سکتے ہیں نہ اشتراکی نظام، بلکے اک اسلامی ریاست کہنا ہی سہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں
نواب محمد خورشید جاہ بہادر پائیگاہ کی پڑپوتی کی امریکہ میں شادی

اور آپ کو یاد دلادوں کی فلاحی ریاست کا مطلب یہ ہے کی عام رعا یہ کو تمام سہولتیں فراہم کریں جیسے کی فری تعلیم، فری انشورینس، پینشن، اور کئی سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔ اب لوگوں کو اس کی خاصی عادت ہی نہیں بلکہ اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کی ان سب کے لیے بہت سارا بجٹ چاہیے جو اب ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے جو قابو میں نہیں آرہا ہے۔

19ویں صدی میں یہ ایک سٹریجک اقدام تھا کہ مکمل طور پر سوشلسٹ ریاست بننے سے گریز کیا جائے اور سرمایہ دارانہ تحریک کو برقرار رکھا جائے، اب یہ قومی ریاستوں کے لیے پھند ابن گیا ہے۔ یہ قومیں اب دیوالیہ پن کے دہانے پر ہیں۔ جو ہر طرح کے سماجی مسائل جیسے عدم مساوات، پیداواری صلاحیت میں کمی، سیاسی انتہا پسندی کے انتخاب سے نمٹ رہے ہیں جو اکثر اندرونی سیاسی بحرانوں کا باعث بن رہے ہیں۔

یورپ کے لیے۔ ٹرمپ بھی ان کی مدد نہیں کر رہے ہیں کیو نکہ مسٹر ٹرمپ اب صرف امریکہ فرسٹ حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اور ایک قومی ریاست کب تک دوسری قومی ریاست کا بوجھ اٹھائے گی ؟ ایک طرف امریکہ خود اپنے سیاسی اتھل پتھل سے نمٹ رہا ہے تو دوسری طرف چین اپنی تکنیکی اور عسکری طاقت کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر ابھر رہا ہے۔

میں نے پہلے ایک مضمون لکھا تھا کہ کس طرح تمام مغربی ممالک میں پاپولزم جڑ پکڑ رہا ہے۔ یہ ایک اور وجہ ہے جسے ہم فہرست میرات مسل کر سکتے ہیں۔

دلِ سیینہ بے نور میں محرومِ تجلی۔

سوال یہ نہیں ہے کہ کیا یو رپ ( اور عام طور پر مغرب) اپنے بنائے ہوئے فلاحی نظام کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن کیا جمہوری سرمایہ دارانہ نظام اتنے بڑے بلوں کو برداشت کرسکتا ہے۔ میرے قار ئین کی یاد دہانی کے طور پر پچھلے سال 2024 میں برطانیہ نے 104 ارب پاؤنڈ سود کے طور پر ادا کیے تھے جب کہ اس کا دفاعی بجٹ صرف 65 ارب پاونڈھتا (یہ وہی برطانیہ ہے جس کی سلطنت نے اپنی سرزمین پر کبھی سورج ڈوبتے نہیں دیکھا۔

اسی وسعت میں امریکہ نے بین الاقوامی منڈیوں سے لیے گئے قرض کے لیے 2024 کے لیے صرف سود کی مدمیں 880 ارب ادا کیے۔ آرگنائزیشن آف اکنامک کو آپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے مطابق جو 37 ممالک پر مشتمل ہے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ۔

’’مغربی ممالک اب 2-1 ٹرلین ڈالر کے قرض میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ کوئی بھی مغربی ممالک اپنے قرضوں کی حد کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے‘‘۔

مغربی دنیا کو اس وقت ایک گہرے اور غیر مستحکم کرنے والے ٹریلیمیا کا سامنا ہے، جس میں اس کی جغرافیائی سیاسی شناخت کے بنیادی ستون جمهوری طرز حکمرانی، اس کا مروجہ اقتصادی نظام ، اور اس کے قائم کردہ سیاسی ڈھانچے بنیادی اور غیر پائیدار تناؤ میں دکھائی دیتے ہیں۔

مروج تاثریہ ہے کہ یہ عناصر باہمی اخراج کے ایک نازک موڑ پر پانچ چکے ہیں۔ پالیسی سازوں کا سامنا زیر وسم ڈائنامک کے ساتھ ہوتا ہے: ایک ستون کو محفوظ رکھنے یا مضبوط کرنے کے لیے کوئی بھی فیصلہ کن اقدام دوسرے کے استحکام کو فطری طور پر خطرے میں ڈالتا ہے، جس سے سمجھے جانے والے نا گزیر تجارت اور نظامی کٹاؤ کا ایک چکر پیدا ہوتا ہے۔

جو پالیسیاں 1900 کی دہائی میں بنائی گئی تھیں وہ آج کی بدلتی ہوئی حرکیات پر مزید لاگو نہیں ہیں ۔ کیونکہ لوگ سماجی بہبود کے نظام کے بہت زیادہ عادی ہیں۔ کیا انہیں اپنے فلاحی نظام کو ٹھیک کرنے پر تو جہ دینی چا ہئے یا وہ اپنی قوم (قوموں) کی حفاظت پر تو جب دیں گے۔ یہ محض ایک پالیسی چیلنج نہیں ہے بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بحران ہے، جہاں جمہوری اصولوں، معاشی قوت اور سیاسی جواز کو بیک وقت برقرار رکھنے کو ایک ناقابل عمل کوشش جاری ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔

محمد منہاج الدین خان
نیوجرسی، امریکا