حیدرآباد

حیدرآباد میں 18 گھنٹوں تک پانی کی سپلائی بند، جانئے کون سے علاقے رہیں گے متاثر

واٹر بورڈ کے مطابق یہ کٹوتی کرشنا فیز۔III مین پائپ لائن میں شدید لیکیجز کی فوری مرمت اور ٹی ایس ٹرانسکو کی جانب سے بجلی و دیکھ بھال کے کاموں کے باعث کی جا رہی ہے۔

حیدرآباد: شہر کے مختلف علاقوں میں 18 گھنٹوں تک پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند یا کم دباؤ کے ساتھ رہے گی۔ یہ کٹوتی 3 جنوری صبح 10 بجے سے 4 جنوری صبح 4 بجے تک جاری رہے گی۔ Hyderabad Metropolitan Water Supply and Sewerage Board (HMWSSB) نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے پانی کے محتاط استعمال کی اپیل کی ہے تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد میں پانی کی قلت: 12,000 سے زائد شکایات، غیرقانونی موٹرز بڑی وجہ قرار
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
ماہِ رمضان میں مساجد کو ٹینکرس کے ذریعہ پانی کی سربراہی: دانا کشور
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا

واٹر بورڈ کے مطابق یہ کٹوتی کرشنا فیز۔III مین پائپ لائن میں شدید لیکیجز کی فوری مرمت اور ٹی ایس ٹرانسکو کی جانب سے بجلی و دیکھ بھال کے کاموں کے باعث کی جا رہی ہے۔ ان کاموں میں 1600 ایم ایم قطر کی سنگور فیز۔III پائپ لائن کی مرمت، 132 کے وی پیڈاپور فیڈر کی ایم آر ٹی ٹیسٹنگ، اور 132 کے وی کنڈی سب اسٹیشن پر ہاٹ لائن اور عمومی دیکھ بھال شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہم آہنگ کام مستقبل میں پانی کی سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

اس دوران شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر رہے گی۔ او اینڈ ایم ڈویژن 15 میں ملائیشین ٹاؤن شپ، مادھاپور، کونڈاپور، ڈوئینس سیکشن اور انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) شامل ہیں۔ او اینڈ ایم ڈویژن 9 کے تحت بھارت نگر، موسی پیٹ، گایتری نگر، بالانگر کے کچھ حصے، کے پی ایچ بی کے بعض علاقے اور بالاجی نگر شامل ہیں۔ او اینڈ ایم ڈویژن 6 میں فتح نگر متاثر ہوگا۔ او اینڈ ایم ڈویژن 17 کے علاقوں گنپال نگر، حفیظ پیٹ، مایوری نگر اور میاپور میں بھی سپلائی متاثر رہے گی۔ او اینڈ ایم ڈویژن 22 میں پرگتی نگر اور مائٹس شامل ہیں۔ اسی طرح ٹرانسمیشن ڈویژن 2 کے علاقوں بی ایچ ای ایل، ایم آئی جی۔I و II، ریل وہار، سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد (ایچ سی یو) اور چندن نگر میں بھی پانی کی فراہمی بند یا کم دباؤ کے ساتھ رہ سکتی ہے۔

واٹر بورڈ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پانی پہلے سے ذخیرہ کر لیں، غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور مرمتی کاموں کے دوران تعاون کریں۔ حکام کے مطابق یہ مرمتیں اس لیے ناگزیر ہیں تاکہ آئندہ لیکجز اور اچانک خرابیوں سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ حیدرآباد کو پینے کے پانی کی بڑی مقدار منجیرا اور سنگور منصوبوں سے فراہم کی جاتی ہے۔ حالیہ معائنے میں سنگور فیز۔III پائپ لائن میں سنگین لیکیجز سامنے آئیں، جس کے بعد فوری مرمتی کام کا فیصلہ کیا گیا۔