سرکاری دفاتر سے رشوت کے چلن کاخاتمہ کب ہوگا؟
مختلف سرکاری دفاتر میں روزانہ کروڑہا روپے کی رشوت طلب وقبول کی جاتی ہے۔بتایا جاتاہے کہ محکمہ آرٹی اے میں بغیر رشوت کے چھوٹا کام بھی نہیں ہوتا۔متعلقہ عہدیدار‘رشوت قبول کرنے کے لئے درمیانی افراد کی خدمات حاصل کرچکے ہیں۔

حیدرآباد: ریاست کے سرکاری محکموں اور دفاتر میں آج رشوت کا چلن عام ہوگیا۔ کسی بھی دفتر میں رشوت کے بغیر فائل ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل تک منتقل نہیں کی جاتی ہے۔جب تک رشوت نہیں دی جاتی تب تک فائل اُسی دفتر کے ٹیبل پر گردمیں لپیٹی ہوئی رہتی ہے۔
سابق سٹی پولیس کمشنر سی وی آنند کی جانب سے اے سی بی سربراہ کی حیثیت سے جائزہ حاصل کرنے کے باوجود سرکاری دفاتر میں رشوت کے چلن میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔عوام کو سی وی آنند سے کئی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اب بھی رشوت کے چلن کوبہت حدتک کم کردیں گے مگر اب تک حوصلہ افزانتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔
مختلف سرکاری دفاتر میں روزانہ کروڑہا روپے کی رشوت طلب وقبول کی جاتی ہے۔بتایا جاتاہے کہ محکمہ آرٹی اے میں بغیر رشوت کے چھوٹا کام بھی نہیں ہوتا۔متعلقہ عہدیدار‘رشوت قبول کرنے کے لئے درمیانی افراد کی خدمات حاصل کرچکے ہیں۔
درمیانی شخص کوپہلے سل فون پر متعلقہ عہدیدار کو فلاں شخص کے بارے میں بتاتے ہیں اوران سے رقم کامطالبہ کرنے کوکہتے ہیں۔جب مجبور ولاچار شخص کام کیلئے درمیانی فرد کے پاس پہونچتاہے اورمطلوبہ رقم حوالے کردیتا ہے۔
سرکاری ملازمین میں اے سی بی کاخوف ختم ہوگیاہے۔اے سی بی کے ملازمین ایسا لگتا ہے کہ خانہ پری کے لئے ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ رجسٹریشن آفس‘محکمہ پولیس‘ صحت عامہ‘ ریونیو‘ جنگلات اور دیگر محکموں کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے۔
رجسٹریشن دفتر میں رجسٹرار سے چپراسی تک رشوت طلب وقبول کرتا ہے۔آج کے دور میں سرکاری ملازمین ہی سب سے زیادہ خوشحال ہیں مگر اس کے باوجود رشوت نہ لیں توایسا دکھائی دیتاہے کہ ان کا ہاضمہ خراب ہوجاتاہے۔سی وی آنند آئی پی ایس سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری دفاتر کورشوت سے پاک بنانے کیلئے ضروری اقدامات کریں۔