حیدرآباد

عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے منصوبہ بند قتل کا معمہ حل کر لیا، تین ملزمین گرفتار

عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے ٹاسک فورس ایسٹ زون کی مدد سے منصوبہ بند قتل کے ایک سنگین مقدمے کو نہایت تیزی سے حل کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کر لیا۔

Munsif News 24×7: عثمانیہ یونیورسٹی پولیس نے ٹاسک فورس ایسٹ زون کی مدد سے منصوبہ بند قتل کے ایک سنگین مقدمے کو نہایت تیزی سے حل کرتے ہوئے تین ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ یہ قتل کیس کرائم نمبر 521/2025 U/Sec 103 r/w 3(5) BNS کے تحت درج ہوا تھا، جس میں دھول پیٹ کے رہنے والے مگو سنگھ (58) کو یکم دسمبر 2025 کو یرر کنٹا کٹا، تارناکہ کے مقام پر بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد کےمسلم معاشرے میں ٹال مٹول، ترقی کی رفتار سست کرنے والا ایک خاموش مسئلہ
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
ہندوستان کی پہلی خاتون میوزک ٹیکنیشن اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ساجدہ خان کو وندھیا ندھیا گورو ایوارڈ
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
مائناریٹی ریسڈنشل کی طالبہ آسیہ نے کراٹے میں گنیز، لمکا اور تیلگو بک آف ریکارڈز میں نام درج کرایا

تحقیقات کے دوران پولیس کے سامنے چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ ملزم نمبر 1 شیخ غوث (43) کو شبہ تھا کہ مقتول اس کے گھر والوں پر کالا جادو کر رہا ہے۔ اس کے مطابق گھر کی مالی حالت بگڑ رہی تھی اور اس کی بیوی کے متعلق افواہیں بھی پھیلائی جا رہی تھیں۔ انہی شبہات نے اسے انتقام لینے پر مجبور کیا اور اس نے ملزم نمبر 2 سید شعیب (32) اور ملزم نمبر 3 محمد الیاس (20) کے ساتھ مل کر قتل کی سازش تیار کی۔

پولیس کے مطابق منصوبے کے تحت ملزم نمبر 2 نے مقتول کو بوسٹ ہوٹل لین پر بلایا، جہاں پہنچتے ہی ملزم نمبر 1 نے آہنی راڈ سے اس پر حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد ملزمین مقتول کو ملزم 2 کی زیلو کار میں ڈال کر تارناکہ کی طرف لے گئے، جہاں ملزم نمبر 1 نے گلا کاٹ کر اس کا قتل کر دیا۔ اس کے بعد لاش کو وہیں پھینک کر ملزمین فرار ہوگئے اور قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار اپنے گھر کے قریب چھپا دیے۔

باوثوق اطلاعات کی بنیاد پر عثمانیہ یونیورسٹی پولیس، نالہ کنٹہ پولیس اسٹیشن اور ٹاسک فورس ایسٹ زون کی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تمام تینوں ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی کار اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے۔

اس کیس کی تیزی سے پیش رفت کو پولیس کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ قتل نہایت منصوبہ بندی سے انجام دیا گیا تھا اور مختلف علاقوں میں لاش منتقل کرنے سے ثبوت مٹانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ملزمین کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی جاری ہے۔

Munsif News 24×7 اس سنگین مقدمے کی مزید معلومات اور آئندہ پیش رفت اپنے قارئین تک پہنچاتا رہے گا۔